ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 63
63 اور یہی وہ اسلوب سادہ و سہل ہے جس کو حسرت موہانی نے بہت مشکل سمجھا ہے۔رنگینی سخن میں بھی ہے سادگی کی شرط کہتا ہے مشکل ہے اس فریضہ آساں کی احتیاط یاد آیا کہ یہی اُن کا انداز بیان بھی تھا۔کہتے ہیں ایک ہی بار ہوئیں وجہ پریشانی دل التفات ان کی نگاہوں نے دوبارہ نہ کیا ادب المسيح یہ وہ سادہ اور با محاورہ اسلوب بیان ہے جوار دو زبان کی روح رواں ہے۔حضرت اقدس نے اردو کی اس روح رواں کی پاسداری میں اپنے اردو کلام میں سادہ اور سہل انداز کو اختیار کیا ہے اور اپنے کلام کو شعر نہیں کہا بلکہ ایک ڈھب کہا ہے۔میرے خیال میں حضرت اقدس اردو اسلوب میں میر درد کے طرز بیان سے قریب تر ہیں۔ہونا بھی چاہیے کیونکہ اردو شاعری میں خواجہ میر درد ہی ایک ایسے شاعر ہیں جو مسلمہ طور پر صوفی شاعر کہلاتے ہیں۔راہ طریقت میں آپ کا طریق طریقہ محمدیہ کہلاتا ہے اور اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سلوک ما سلوک نبوی است و طریق ما طریق محمدی (علم الكتاب صفحہ 85 ) اردوزبان کے صیقل کرنے کے اعتبار سے آپ کا اہم مقام ہے ” تاریخ اردو ادب“ کے مصنف لکھتے ہیں زبان اور ادب کے لحاظ سے خواجہ صاحب ایک نہایت نمایاں اور ممتاز درجہ رکھتے ہیں بقول مصنف ” آب حیات آپ چار رکنوں میں سے ایک رکن ہیں۔اور باقی رکن میر۔سودا۔اور مظہر ہیں۔حقیقت میں انہی عناصر اربعہ کی ترکیب سے زبان کا قوام درست ہوا۔۔۔۔زبان صاف ہو گئی۔منجی اور بالآخر ترقی کی معراج تک پہنچ گئی۔اسی کتاب میں نواب حبیب الرحمن شیروانی کا قول لکھا ہے کہ ( تاریخ ادب اردو صفحہ 75 ) خواجہ صاحب کی زبان اور طر زادا وہی ہے جو میر کی ہے۔عبارت صاف سلیس فصیح۔ہر شخص کی سمجھ میں آسانی سے آتی ہے“۔( تاریخ ادب اردو صفحہ 74) خدا بھلا کرے شیروانی صاحب کا کہ آپ نے یہ کہہ کر میرا کام آسان کر دیا کہ عبارت صاف سلیس فصیح۔