ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 65 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 65

65 ادب المسيح اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے سو وہ اس شخص میں متحقق ہے (براہین احمدیہ، ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 598) یہ تو چنداد بی اور ترجیحاتی مناسبتیں تھیں جن کا ذکر ضروری تھا۔مگر ایک مناسبت جو ان سے بھی زیادہ اہم ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے وہ حضرت اقدس کا میر درد کے خانوادے سے آپ کی دامادی کا رشتہ ہے۔جیسے الہام الہی میں فرمایا گیا الحمد لله الذي جعل لكم الصهر والنسب“ حضرت اقدس ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمھاری دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیا اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکب ہے تریاق القلوب ، رخ - جلد 15 صفحہ 272-273) اللہ تعالیٰ نے اس طرح سے میر درد سے آپ کا تعلق کرنا تھا کہ ہم سب کی ماں سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا نے آپ کے عقد میں آنا تھا جو کہ چھٹی یا ساتوں پشت میں میر درد کی نسل سے ہیں۔ان سب مناسبتوں کو بیان کر کے ہم اصل مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اس امر کی وضاحت کریں کہ اردو شعر کے اسلوب کے اعتبار سے حضرت اقدس میر درد کے اسلوب سے قریب تر ہیں۔اس لیے قرابت اسلوب کے ثبوت میں چند امثال پیش کرنا ضروری ہیں۔مگر امثال دینے اور اشعار کا تقابلی موازنہ کرنے سے قبل اس امر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا کہ گودونوں صاحب ادب اپنے موضوعات کے انتخاب اور الفاظ کے چناؤ میں باہم دگر ہم زبان اور ہم خیال ضرور نظر آئیں گے مگر میر درد کا طرز نگارش تغزل کے رنگ میں ڈوبا ہوا ایک جمالیاتی تجربہ ہے۔اس لیے ان کے بیان کے روحانی معانی مجاز کی راہ سے ثابت ہوتے ہیں۔اس کے مقابل پر حضرت اقدس بر ملا عاشق باری تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ان کے کلام میں مجاز کو دخل نہیں ہے۔ایک کامل حقیقتِ عظمی کا اظہار ہے جو جمالیاتی انداز کے قیام کے ساتھ ہے اور تمام ادبی نزاکتوں کوملحوظ خاطر رکھ کر کہا گیا ہے۔مجاز نہیں ہے بلکہ حقیقی مشاہدات اور واردات قلبی کا اظہار ہے۔اس لیے موضوع اور الفاظ میں اتحاد اور یک رنگی کے باوجود طرز نگارش میں اختلاف ضرور ہو گا۔دوران مطالعہ اس امتیاز کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔