ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 62
ب المسيح 62 اور قریب کے زمانے میں حالی میر کو اپنا راہنما کہتے ہیں۔اور حسرت موہانی کہتے ہیں۔شاگر دمیرزا کا مقلد ہوں میر کا شعر میرے بھی ہیں پر در دو لیکن حسرت میر کا شیوہ گفتار کہاں سے لاؤں جناب میر کے شیوہ گفتار میں چند شعر بھی سن لیں اور اور اور آخر پر مرگ ایک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا اب کے جنوں میں فاصلہ شاید ہی کچھ رہے دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں ہم فقیروں سے کج ادائی کیا آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا یہی وہ سہل اور سادہ زبان ہے جس کو سہل ممتنع کہتے ہیں اور یہی وہ انداز بیان ہے جس کی تلاش میں تمام شعراءار دو سر گرداں رہے ہیں۔اس اسلوب پر دو شعر ایسے بھی سن لیں جن کو غالب جیسے عظیم المرتبت شاعر نے ایسا پسند کیا کہ اپنا دیوان ان پر شار کرنے کو تیار ہو گیا تھا۔ایک ذوق کا ہے اب تو گھبرا کہ یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے اور ایک مومن کا ہے۔مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا