ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 61
61 ادب المسيح اردو زبان میں ابلاغ رسالت زبان اپنی زندگی کے متعدد نشیب وفراز اور فتح و شکست سے گذرنے کے بعد ہی پختہ اور صیقل ہوتی ہے۔اردو ایک کم عمر زبان ہے۔تجرباتی لحاظ سے اس زبان پر گرم وسردزمانہ کا کوئی طویل عمل نہیں ہوا۔گو یہ بات درست ہے کہ اردو زبان اپنی ابتدائی ساخت میں ہندی زبان یا بھاشا کی بنیادوں پر استوار ہوئی ہے جو کہ صدیوں سے دہلی اور میرٹھ کی اقوام میں بولی جاتی تھی مگر یہ ایک تاریخی تجزیہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ زبان جو اؤل بھاشا کی ایک شاخ تھی ہندوستان میں مسلمان سلاطین کی آمد کے بعد اپنی نوعیت اور ساخت میں بالکل تبدیل ہو کر ایک ممتاز اور مستقل زبان کی صورت اختیار کر گئی تھی۔اسی اثر کی بنا پر اس زبان میں اُس زبان کا عمل دخل ہو گیا جو کہ اس ملک کے حاکم اور بادشاہ تھے یعنی فارسی زبان یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں اردو ادیب اپنے اشعار میں فارسی تراکیب اور عربی لغت کا جابے جا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔اگر اردو شاعری کی ابتدا امیر خسرو سے کی جائے تو ولی دکنی تک پہنچنے تک اس زبان نے اپنے اسلوب کی کوئی خاص اور منفر دراہ متعین نہیں کی تھی۔تاہم یہ بات درست ہے کہ ولی دکنی تک پہنچتے پہنچتے اردو ایک زبان کی شکل اختیار کر گئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ ولی دکنی کو ریختہ کا بانی مبانی کہا جاتا ہے۔ولی دکنی ہی کے اتباع میں دہلی اردو زبان کا مکتب سخن بن گیا تھا۔یہاں پر اردو زبان کے ادب کی تدریجی ترقی بیان کرنا مقصود نہیں ہے۔صرف یہ واضح کرنا مطلوب ہے کہ اردو زبان اور اردو ادب نے اپنا حقیقی اسلوب میر درد اور میر تقی میر کے وقت میں متعین کیا اور سہل اور سادہ بیان کو اس کا روح رواں بنایا اور اسی روایت ادب اور دستور بیان کو ذوق اور اس کے مکتب شعر کے شاگردوں نے مزید صیقل کر کے فروغ دیا۔یہی وجہ ہے کہ اردو زبان کے اساتذہ شعر نے میر تقی میر کے اسلوب بیان کو اردو اسلوب شعر کی معراج قرار دیا ہے۔جیسے غالب نے کہا ہے: ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا اور ذوق کو یہ حسرت رہی کہ میر کا انداز نصیب ہو۔نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا