ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 413
413 ادب المسيح ہمارے پیارے اور مطاع اور آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں حضور کا یہ فرمان آنحضرت کی نعت میں ایک شاہکار کلام ہے اس کی بھی ایسی شان ہے کہ ایسا کلام نہ پہلے ظہور میں آیا اور نہ بعد میں آئے گا۔فرماتے ہیں: اللهم صل على محمد و على عبده المسيح الموعود یہ بات ارباب کشف اور کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہے کہ کامل کی دعا میں ایک قوت تکوین پیدا ہو جاتی ہے یعنی بازنہ تعالیٰ وہ دع عالم سفلی اور علوی میں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اُس طرف لے آتی ہے جو طرف مؤید مطلوب ہے۔خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں میں اس کی نظیر میں کچھ کم نہیں ہیں بلکہ اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دراصل استجابت دعا ہی ہے اور جس قدر ہزاروں منجزات انبیاء سے ظہور میں آئے ہیں یا جو کچھ کہ اولیاء ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے اس کا اصل اور منبع یہی دعا ہے اور اکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشا دکھلا رہے ہیں۔وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دُنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دُنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اَللَّهُمَّ صَلّ وَ سَلَّمَ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ بِعَدَدِ هَمِّهِ وَ غَمِّهِ وَ حُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَ انْزِلُ عَلَيْهِ انْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ۔اور میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے بلکہ اسباب طبیعہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم اللہ شیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت)