ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 412
المسيح 412 گناہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ہماری دعا یہ ہونی چاہیے۔کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے ہیں۔دور کر دے۔اور اپنی رضامندی کی راہ دکھلائے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اس مضمون میں دوسری آیت قرآنیہ میں فرمان ہے۔أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ وَالهُ مَعَ اللهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (النمل: 63) حضرت اقدس اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خداوہ خدا ہے جو بیقراروں کی دعا سنتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ پھر جب کہ خدا تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیا والا گمان کر سکتا ہے کہ دعا کرنے پر کوئی آثار صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی رُوحانیت نہیں۔میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی بچے ایمان والا ہر گز نہیں کرے گا جبکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صفت پر غور کرنے سے سچا خدا پہچانا جاتا ہے اسی طرح دعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے۔اس مضمون میں تیسر افرمانِ قرآن یہ ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِ سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دُخِرِينَ (المؤمن : 61) حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں دعا کی تاثیر کے بیان میں فرماتے ہیں کہ ” تمام انبیاء اور اولیاء نے جو معجزات اور کرامات دکھا ئیں وہ دراصل باری تعالیٰ کی جناب میں دعا ہی کے نتیجہ میں صادر ہوئیں اور ان سب انبیاء کے معجزات میں سب سے اول اعلیٰ اور روشن معجزہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ظاہر ہوا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ایسی تجلتی عظمی دکھائی کہ جو پہلے کبھی نہیں دکھائی گئی تھی اور نہ ہی آئندہ دکھائی جائے گی۔کیونکہ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔“