ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 402 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 402

المسيح 402 یہ الہام حضور اقدس کو ایک کشفی نظارے کے دوران ہوا تھا جس میں ایک فرشتے نے آپ حضور کو باری تعالیٰ کی بارگاہ تک رسائی پانے کی شرط بتائی تھی تمہید ستانِ عشرت را یعنی وصال باری تعالیٰ کے لیے عیش وعشرت کی زندگی کو ترک کرنا ہوگا اور آپ حضرت کو یہ پیغام الہی ایسا پیارا لگا کہ آپ نے اس کو ایک شعر میں شامل کر کے محفوظ کر لیا ہم چاہتے ہیں کہ حصول برکت کے لیے حضرت اقدس کے الفاظ میں اس واقعہ کو درج کر دیں۔فرماتے ہیں: ۱۸۷۲ء (قریبا) میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ بٹالہ کے مکانات میں ایک حویلی ہے اس میں ایک سیاہ کمبل پر میں بیٹھا ہوں اور لباس بھی کمبل ہی کی طرح کا پہنا ہوا ہے گویا کہ دُنیا سے الگ ہوا ہوں۔اتنے میں ایک لمبے قد کا شخص آیا اور مجھے پوچھتا ہے کہ میرزا غلام احمد میرزاغلام مرتضی کا بیٹا کہاں ہے؟ میں نے کہا کہ میں ہوں۔کہنے لگا کہ میں نے آپکی تعریف سنی ہے کہ آپ کو اسرار دینی اور حقائق اور معارف میں بہت دخل ہے، یہ تعریف سنگر ملنے آیا ہوں۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا۔اس پر اُس نے آسمان کی طرف منہ کیا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور بہہ کر رخسار پر پڑتے تھے۔ایک آنکھ اوپر تھی اور ایک نیچے، اور اُس کے منہ سے حسرت بھرے یہ الفاظ نکل رہے تھے:۔د تهی دستان عشرت را اس کا مطلب میں نے یہ سمجھا کہ یہ مرتبہ انسان کو نہیں ملتا جب تک کہ وہ اپنے او پر ایک ذبح اور موت وارد نہ کرے۔اس مقام پر عرب صاحب نے حضرت کا یہ شعر پڑھا جس میں یہ کلمہ منسلک تھا کہ مے خواہد نگار من تهی دستان عشرت را ( ترجمه از مرتب) کیونکہ میر امحبوب آرام طلبی کی زندگی سے الگ رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔فرماتے ہیں: ( تذکرہ ، ایڈیشن چہارم صفحہ 13 ،14 ) به نخوت ہانمی آید بدست آں دامن پاکش کسے عزت از و یا بد که سوزد رخت عزت را اُس کا مقدس دامن تکبر سے ہاتھ نہیں آتا۔اُس کے ہاں اسی کو عزت ملتی ہے جو لباس عزت جلا دیتا ہے اگر خواہی رہ مولے زلاف علم خالی شو که ره ند هند در گویش اسیر کبر و نخوت را اگر مولا کی راہ چاہتا ہے تو علم کی شیخی ترک کر کہ اُس کے کوچہ میں اسیر کبر ونخوت کو گھسنے نہیں دیتے