ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 403 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 403

403 ادب المسيح منہ دل در تمیم ہائے دُنیا گر خدا خواہی کہ مے خواهد نگار من تهیدستانِ عشرت را اگر خدا کا طلبگار ہے تو دنیوی نعمتوں سے دل نہ لگا کہ میرا محبوب ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو عیش کے تارک ہوں مصفا قطره باید که تا گوہر شود پیدا کجا ببیند دلِ نا پاک روئے پاک حضرت را پانی کا مصفا قطرہ چاہئیے تا کہ اس سے موتی پیدا ہو۔نا پاک دل خدا کے پاک چہرہ کو کہاں دیکھ سکتا ہے ن باید مرا یک ذرہ عزتہائے ایں دُنیا منه از بهر ما کرسی که ماموریم خدمت را مجھے ذرہ بھر بھی دُنیا کی عزت درکار نہیں۔ہمارے لیے کرسی نہ بچھا کہ ہم تو خدمت پر مامور ہیں محبت الہی میں عیش و آرام کی زندگی کو ترک کرنے کا ارادہ بھی مشاہدہ کریں: اردو میں فرماتے ہیں: ہم خاک میں ملے ہیں شاید ملے وہ دلبر جیتا ہوں اس ہوس سے میری غذا یہی ہے دُنیا میں عشق تیرا باقی ہے سب اندھیرا معشوق ہے تو میرا عشق صفا یہی ہے مشتِ غبار اپنا تیرے لیے اُڑایا جب سے سُنا کہ شرط مہر و وفا یہی ہے دلبر کا درد آیا حرف خودی مٹایا جب میں مرا جلایا جام بقا یہی ہے اس عشق میں مصائب سو سو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے حرف وفا نہ چھوڑوں اس عہد کو نہ توڑوں اس دلیر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے فارسی میں آپ حضرت کی خاکساری عاجزی اور عشق الہی کا مشاہدہ کریں۔امروز قومِ من نشناسد مقامِ من روزے بگریہ یاد کند وقت خوشترم آج کے دن میری قوم میر ادرجہ نہیں پہچانتی لیکن ایک دن آئیگا کہ وہ رو رو کر میرے مبارک وقت کو یاد کرے گی