ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 366
المسيح 366 از یاد تو نُور با به بینم! در حلقه عاشقان خونبار میں تیرے ذکر کی برکت سے انوار د یکھتا ہوں آہ وزاری کرنے والے عاشقوں کی جماعت میں پسند اغیار آنکس که به بند عشقت افتاد دیگر نشنید وہ شخص جو تیری قید محبت میں گرفتار ہوگیا۔پھر اس نے دوسروں کی نصیحت نہ سُنی اے مونس جاں چہ دلستانی کز خود بر بودیم به یکبار! اے میرے مونس جاں! تو کیسا دلستاں ہے کہ دفعتا تو نے مجھے مدہوش کردیا از یاد تو این دلے بہ غم غرق دارد گہرے نہاں صدف وار تیری یاد میں میرا دل غم میں غرق ہو کر صدف کی طرح ایک موتی اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے و سر ما فدائے رویت جان و دل ما بجو گرفتار میری آنکھ اور سر تجھ پر قربان ہیں اور میرے جان و دل تیری محبت میں قید تادم نه زند دیگر خریدار چشم عشق تو نقد جاں خریدیم به در ہم نے نقد جان دے کر تیرا عشق خریدا ہے۔تاکہ پھر اور کوئی خریدار دم نہ مار سکے غیر از تو که سرزدے ز جیم! برج دلم نماند دیار تیرے سوا اور کون میرے گریبان میں سے نمودار ہوتا جبکہ میرے دل میں اور کوئی بسنے والا ہی نہیں عمریست که ترک خویش و پیوند کردیم و دے جز از تو دشوار ایک عمر گذرگئی کہ ہم نے عزیزوں اور رشتہ داروں سے تعلق منقطع کر لیا مگر تیرے بغیر ایک لحظہ گذار نا بھی مشکل ہے۔آخری شعر کو دوبارہ سن لیں۔اسی کو کامل رجوع الی اللہ کہتے ہیں۔عمریست که ترک خویش و پیوند کردیم و دے جز از تو دشوار ایک عمر گذرگئی کہ ہم نے عزیزوں اور رشتہ داروں سے تعلق منقطع کر لیا مگر تیرے بغیر ایک لحظہ گذار نا بھی مشکل ہے۔محبت کے آثار کا بھی مشاہدہ کریں۔اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی اے محبت تو نے عجیب رنگ دکھائے تونے یار کی راہ میں زخم اور مرہم برابر کر دیئے