ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 365 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 365

365 ادب المسيح اور پھر اس محبت کے اظہار کے شوق کو بھی دیکھیں۔فرماتے ہیں: بهردم از دل و جاں وصف بار خود بکنم من آں نیم که تغافل ز کار خود بکنم میں ہر دم دل و جان سے اپنے خدا کی تعریف کرتا ہوں میں وہ نہیں ہوں کہ اپنے کام سے غفلت کروں بہر زماں بدلم ایں ہوس ہے جوشد کہ ہرچہ ہست نثار نگار خود بکنم ہر وقت میرے دل میں یہ شوق جوش مارتا ہے کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہ اپنے محبوب پر قربان کر دوں اگر چه در ره جاناں چو خاک گردیدم دلم تپد که فدایش غبار خود بکنم اگر چہ میں محبوب کی راہ میں خاک کی طرح ہو گیا ہوں مگر میرا ادل تڑپتا ہے کہ اپنا غبار بھی اُس پر فدا کر دوں روم بگلشن دلدادگاں کزاں باغم چرا بکوچه غیرے قرار خود بکنم میں عاشقوں کے گلشن میں جاتا ہوں اس باغ کو چھوڑ کر میں کسی غیر کے کوچہ میں کیوں اپنا مسکن بناؤں رسید مژده که ایام نو بهار آمد زمانه را خبر از برگ و بار خود بکنم مجھے خوشخبری ملی ہے کہ پھر موسم بہار آ گیا تا کہ زمانہ کو میں اپنے پھلوں اور پتوں کی خبر کر دوں تعلقات دلارام خویش نمایم ہمائے اوج سعادت شکار خود بکنم اور اپنے محبوب کے تعلقات کا اظہار کروں اور ہمائے اوج سعادت کو اپنا شکار بناؤں آخری دو شعر تو ایسے دلفریب ہیں کہ ان کا حسن و خوبی بیان نہیں ہو سکتا ہے فرماتے ہیں۔کہ بہار آئی ہے تو میں بھی اپنی محبت کے برگ و بار دکھاؤں اور اپنے محبوب کے تعلقات کو بیان کروں اور عطا سعادت علمی کے ہما کو شکار کروں۔سبحان الله ! ایسا عا شقانہ کلام کہاں ملے گا یہاں پر دیکھیں دنیاو مافیہا سے تعلق تو ڑ کر اپنے خدا سے رشتہ باندھا ہے۔فرماتے ہیں: اے دلبر و دلستان و دلدار و اے جان جہان و و نور انوار میرے محبوب اور دلدار اور اے جان جہاں اور نوروں کے نور لرزاں ز تجلیت دل و جان حیراں ز رخت قلوب و ابصار جان و دل تیرے جلال سے کانپ رہے ہیں۔قلوب اور نظریں تیرے رخ کو دیکھ کر حیران ہیں