ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 367
367 ادب المسيح ہمہ مجموع دو عالم تو پریشاں کردی ہمہ عشاق تو سرگشته و حیراں کردی دونوں جہان کے مجموعہ کو تو نے پراگندہ کر دیا اور سب عاشقوں کو تو نے دیوانہ اور حیران کر دیا ہوشمندان جہاں را تو کنی دیوانہ اے بسا خانہ فطنت کہ تو ویراں کردی دنیا کے عظمندوں کو تو دیوانہ بنا دیتی ہے اور بہت سے عقلمندی کے گھروں کو تو نے ویران کر دیا جان خود کس ندهد بهر کس از صدق و وفا راست این ست که این جنس تو ارزاں کردی کوئی کسی کے لیے اپنی جان عشق اور وفاداری کے ساتھ نہیں دیتا۔لیکن سچ یہ ہے کہ اس جنس کو تو نے بہت سستا کیا ہے بر تو ختم ست همه شوخی و عیاری و ناز بیچ عیار نباشد که نه نالاں کردی شوخی چالا کی اور ناز سب تجھ پرختم ہیں۔کوئی ہوشیار آدمی ایسا نہ ہوگا جسے تو نے رُلا نہ دیا ہو تا نه دیوانه شدم ہوش نیا مد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احساں کر دی میں بھی جبتک دیوانہ نہ ہو گیا میرے ہوش ٹھکانے نہ ہوئے۔اے جنونِ عشق تجھ پر قربان ! تو نے کتنا احسان کیا ہمہ جا شورِ تو بینم چہ حقیقت چه مجاز سینہ مشرک ومسلم ہمہ بریاں کردی میں سب جگہ تیرا ہی شور دیکھتا ہوں خواہ حقیقت ہو یا مجاز۔تو نے تو مشرک اور مومن سب کے سینے جلا ڈالے آں مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کردی کہ ازیں خاک مرا آں کردی وہ مسیح جس کا مقام آسمان پر بیان کرتے ہیں تو نے مہربانی فرمائی کہ ای زمین میں سے مجھے وہی مسیح بنادیا محبت الہی میں وفا اور محبوب کی رضا کو عزیز رکھنا بھی دیکھیں۔باری تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ آپ تو محبت اور وفا کو نہیں جانتے تھے اس جذبے کو تو نے ہی میرے دل میں بھر دیا ہے۔بہت ہی پاکیزہ کلام ہے۔آخری دو شعر تو وہی کہہ سکتا ہے جس کو آداب و فامحبوب حقیقی نے عنایت کئے ہوں۔قربانِ تست جانِ من اے یار محسنم بامن کدام فرق تو کردی که من کنم اے میرے محسن دوست میری جان تجھ پر قربان ہے تو نے مجھ سے کونسا فرق کیا ہے کہ میں تجھ سے کروں ہر آرزو که بود بخاطر معینم ر مطلب و مراد که می خواستم ز غیب ہر ہر مراد اور دعا جو میں نے غیب سے طلب کیا۔اور ہر خواہش جو میرے دل میں تھی از جود داده ء ہمہ آں مدعائے من و از لطف کرده گذر خود بمسکنم تو نے اپنی مہربانی سے میری وہ مرادیں پوری کر دیں اور مہربانی فرما کر تو میرے گھر تشریف لایا