ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 354
المسيح 354 آپ حضرت کی ان مناجات کا حضرت داؤد کی دعا سے ایک رشتہ یہ بھی ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہاما بتایا کہ آپ کا روحانی مشرب داؤدعلیہ السلام کے نقش قدم پر ہے اور حضرت داؤڈ کا مشرب تو آپ کی دعا سے ظاہر ہے کہ صرف اور صرف محبت الہی کا حصول تھا۔آپ کا الہامی شعر ہے۔طریق زہد و تعبّد نه دانم اے زاہد خدائے من قدمم راند بر ره داؤد ترجمہ۔اے زاہد میں تو کوئی زہد و تعبد کا طریق نہیں جانتا میرے خدا نے خود ہی میرے قدم کو داؤد کے راستہ پر ڈال دیا ہے تذکرہ صفحہ 93۔مطبوعہ 2004ء) وہ کشفی نظارہ جس کے اختتام پر یہ شعر الہام ہوا ہے۔ایسا دلفریب ہے کہ اُس کا مطالعہ از بس ضروری ہے اس تسلسل بیان میں حضرت اقدس کا یہ شعر بھی تو ہے۔اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار داؤدی صفت کے پھل محبت الہی ہی کے تو ہیں جو آپ کے شجر طیہ پر لگے۔اور اردو میں آپ حضرت کے دل کا راز بھی سُن لیں کہ وہ کمل اور تمام تر محبت الہی میں گرفتار فرماتے ہیں: لوگ کچھ باتیں کریں میری تو باتیں اور ہیں میں فدائے یار ہوں گو تیغ کھینچے صد ہزار اے مرے پیارے بتا تو کس طرح خوشنود ہو نیک دن ہوگا ؤ ہی جب تجھ پر ہوویں ہم نثار جس طرح تو دُور ہے لوگوں سے میں بھی دُور ہوں ہے نہیں کوئی بھی جو ہو میرے دل کا راز دار نیک ظن کرنا طریق صالحانِ قوم ہے لیک سوپر دے میں ہوں اُن سے نہیں ہوں آشکار بیخبر دونوں ہیں جو کہتے ہیں بد یا نیک مرد میرے باطن کی نہیں ان کو خبر اک ذرہ وار ابن مریم ہوں مگر اُتر ا نہیں میں چرخ سے نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کار زار ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا ئے دیار تاج و تختِ ہند قیصر کو مبارک ہو مدام اُن کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہِ روزگار