ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 355 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 355

355 ادب المسيح مجھکو کیا ملکوں سے میر املک ہے سب سے جدا مجھکو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار اس موضوع کا تعارف ( با وجود اختصار کی کوشش کے ) قدرے طویل ہو گیا ہے۔اس کا ایک باعث تو یہ ہے کہ جہاں کلام کے حسن و جمال کی ہزار تجلیات ہوں وہاں اُن کے انتشار رنگ و بو میں چند ایک کا انتخاب کرنا مشکل کام ہے۔مظہر جانِ جاناں کا یہ شعر اسی مشکل کو بیان کر رہا ہے۔ز فرق تا بقدم هر کجا می بینم کرشمہ دامن دل می کشد که جان این جا است ترجمہ۔محبوب کے چہرے سے لیکر اُس کے قدموں تک جہاں بھی نظر پڑتی ہے اُس کا حسن و جمال دل کو اُسی مقام پر فدا ہونے کو کہتا ہے۔اس طوالت کی دوسری وجہ اس مضمون کا عنوان ہے۔یعنی محبت الہی۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جو تمام صحف سماوی اور انبیاء کی تعلیم و تربیت کی جان اور ان کی روح رواں ہے۔اُسی جذ بے کو زندہ کرنے کے لیے انسان کی تخلیق ہوئی ہے اور اسی جذبہ کو انسان کی سرشت میں رکھا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس موضوع کی ابتدا ہی باری تعالیٰ کے اس فرمان سے کی ہے۔اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى (الاعراف: 173) حضرت اقدس اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کے ساتھ تو انسان کا فطری تعلق ہے کیونکہ اسکی فطرت خدا تعالیٰ کے حضور میں الَستُ بِرَبِّكُمْ “ کے جوب میں قَالُوا بکی کا اقرار کر چکی ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ان خصوصیات کی وجہ سے حضرت اقدس کا تمام کلام در اصل محبت الہی کا ہی اظہار ہے کبھی بلا واسطہ اور برملا اور کبھی بالواسطہ اور پوشیدہ۔اس صورت میں مضمون کا قدرے مفصل ہونا لا زم تھا۔در حقیقت یہ معذرت بلاضرورت تھی کیونکہ طوالت کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ حضرت کے ادب عالیہ میں اس