ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 353
353 ادب المسيح لیے اپنی جان سے اور اپنے عزیز واقرباء سے اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب کر دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو مشاہدہ کریں کہ باوجود محبوب الہی ہونے اور دوسروں کو محبوب الہی بنانے کے محبت الہی کی پیاس نہیں بجھتی۔انبیاء کی یہی شان ہے۔جیسے فرمایا: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: 164،163) کہ نماز میری اور عبادتیں میری اور زندگی میری اور موت میری اس اللہ کے واسطے ہیں جو رب ہے عالموں کا۔جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی درجہ کے حاصل کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اسی محبت میں وہ مبتلا ہوتے ہیں اور اسی کو زندہ کرنے کے لیے ان کو مبعوث کیا جاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اور وارث کامل کی دعا کو بھی مشاہدہ کریں کہ لفظ اور معنا اُس محبت کو پانے کی دعا کر رہے ہیں جو کہ آپ کے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے کی یہ اتباع رسول اکرم کا کامل نمونہ ہے۔فرماتے ہیں: اے خداوند من گنا ہم بخش سوئے درگاه خویش را هم بخش اے میرے خداوند! میرے گناہ بخش دے اور اپنی درگاہ کی طرف مجھے رستہ دکھا روشنی بخش در دل و جانم پاک کن از گناه پنهانم میرے جان اور میرے دل میں روشنی دے اور مجھے میرے مخفی گناہوں سے پاک کر دل ستانی و دلبر بائی کن به نگا ہے گرہ کشائی کن دل ستانی کر اور دل رُبائی دکھا اپنی ایک نظر کرم سے میری مشکل کشائی کر در رو عالم مرا عزیز توئی و آنچه می خواهم از تو نیز توئی دونوں عالم میں تو ہی میرا پیارا ہے اور جو چیز میں تجھ سے چاہتا ہوں وہ بھی تو ہی ہے بے انتہا ء خوبصورت اور عشق الہی میں ڈوبا ہوا کلام ہے اس قدر مؤثر کہ ہر عاشق الہی کی حرز جان ہے اور ادبی اعتبار سے اپنے موضوع میں فارسی کا شاہکار ہے۔صرف فارسی ہی میں نہیں بلکہ کسی بھی زبان میں اس کے مقابل پر کچھ بھی پیش کرنے کو نہیں۔