ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 346
ب المسيح 346 محبت الہی اگر قرآن کریم کی تعلیم کا مقصد اوّل و آخر اس حقیقت کو کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اس غرض کے لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اُس سے ایسی محبت کرے جو عبادت کی حد تک پہنچی ہوئی ہو تو فرمودات قرآن کے مطابق یہ برحق بیان ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ باری تعالیٰ نے اس منشاء کے حصول کے لیے انسان کی پیدائش کے اول مرحلے پر ہی انسان کے دل میں اپنی محبت کا چراغ روشن کر دیا ہے۔جیسے فرمایا: (الاعراف: 173) وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أنفُسِهِم اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غُفِلِينَ نجات کا تمام مدار خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ پر ہے اور محبت ذاتیہ اس محبت کا نام ہے جو روحوں کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق ہے پھر جس حالت میں ارواح پر میشر کی مخلوق ہی نہیں ہیں تو پھر ان کی فطری محبت پر میشر سے کیونکر ہوسکتی ہے اور کب اور کس وقت پر میشر نے ان کی فطرت کے اندر ہاتھ ڈال کر یہ محبت اس میں رکھ دی یہ تو غیر ممکن ہے۔وجہ یہ ہے کہ فطرتی محبت اس محبت کا نام ہے جو فطرت کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہو اور پیچھے سے لاحق نہ ہو جیسا کہ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ اس کا یہ قول ہے اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى (الاعراف : 173) یعنی میں نے روحوں سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا پیدا کنندہ نہیں ہوں تو روحوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسانی روح کی فطرت میں یہ شہادت موجود ہے کہ اس کا خدا پیدا کنندہ ہے۔پس روح کو اپنے پیدا کنندہ سے طبعا محبت ہے اس لیے کہ وہ اس کی پیدائش ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) قرآن کریم کے اس فرمان کو ہمارے پیارے مسیح نے کس قدر خوبصورتی سے بیان کیا ہے فرماتے ہیں: تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اس سے ہے شور محبت عاشقان زار کا