ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 345 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 345

345 ادب المسيح ارَى ايَةً عُظمى بِايْدِ قَوِيَّةٍ فَوَاهَا لِهَذَا الْعَبْقَرِي الْمُظَفَّر اس نے قومی ہاتھوں سے بڑا نشان دکھایا۔پس آفرین ہے اس صحیح مند جوانمرد پر إِمَامُ أُناسٍ فِي بِجَادٍ مُرَقَّعٍ مَلِيْكَ دِيَارٍ فِي كِسَاءٍ مُّغَبَّرٍ وه پیوند شدہ کمبل میں لوگوں کا امام تھا اور غبار آلود چادر میں ملکوں کا بادشاہ تھا وَأُعْطِيَ أَنْوَارًا فَصَارَ مُحَدَّنًا وَكَلَّمَهُ الرَّحْمَنُ كَالمَتَخَيَّرِ اور اسے انوار الہی دیئے گئے سو وہ خدا کا محدث بن گیا اور خدائے رحمان نے اس سے برگزیدوں کی طرح کلام کیا مَاثِرُهُ مَمْلُوَّةٌ فِي دَفَاتِرٍ فَضَائِلُهُ أَجَلَى كَبَدْرٍ الْوَرِ اس کی خوبیوں سے دفاتر بھرے پڑے ہیں اور اس کے فضائل بدرانور کی طرح زیادہ روشن ہیں فَوَاهًا لَّهُ وَلِسَعُيْهِ وَلِجُهْدِهِ وَ كَانَ لِدِينِ مُحَمَّدٍ خَيْرَ مِغْفَرٍ پس آفرین ہے اس کے لئے اور اس کی کوشش اور جدوجہد کے لئے وہ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہترین خود تھا وَ فِي وَقْتِهِ إِفْرَاسُ خَيْلٍ مُحَمَّدٍ أَثَرُنَ غُبَارًا فِي بَلَادِ التَّنَصُّرِ اور اس کے عہد میں محمد صلعم کے شاہسواروں کے گھوڑوں نے عیسائیوں کے ملک میں غبار اڑائی وَ كَسَرَ كِسْرَى عَسُكُرُ الدِّينِ شَوْكَةً فَلَم يَبْقَ مِنْهُمْ غَيْرُ صُوَرِ التَّصَوُّر اور دین کے لشکر نے کسرائی کو شوکت کے لحاظ سے توڑ ڈالا پس ان (اکا سرہ ) میں سے خیالی صورتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا اور آخر پر خدا تعالیٰ کی جناب میں مناجات کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کے طفیل ہم پر رحم فرما۔يَارَبِّ فَارُحَمُنَا بِصَحُبِ نَبَيِّنَا وَاغْفِرُ وَاَنْتَ اللَّهُ ذُو اَلَاءِ ے میرے رب ! ہم پر بھی نبی کے صحابہ کے طفیل رحم کر اور ہماری مغفرت فرما اور تو ہی نعمتوں والا اللہ ہے وَ اللهُ يَعْلَمُ لَوْ قَدَرُتُ وَ لَمُ اَمُتُ لَا شَعُتُ مَدْحَ الصَّحُبِ فِي الْأَعْدَاءِ اللہ جانتا ہے اگر میں قدرت رکھتا تو میں مرتے دم تک صحابہ کی تعریف ان کے تمام دشمنوں میں خوب پھیلا کر چھوڑتا إن كُنتَ تَلْعَنُهُمُ وَ تَضْحَكُ خِسَّةً فَارُقُبُ لِنَفْسِكَ كُلَّ اسْتِهْزَاءِ اگر تو ان کو لعنت کرتا رہا اور کمینگی سے ہنستا رہا تو اپنے لئے ہر استہزاء کا انتظار کر مَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ فَقَدْ رَدى حَقُّ فَمَا فِي الْحَقِّ مِنْ إِخْفَاءِ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو گالی دی تو بے شک وہ ہلاک ہو گیا۔یہ ایک سچائی ہے سواس سچائی میں کوئی اختفاء نہیں