ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 347 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 347

347 اور اس نمک پاشی کے بعد جو عاشقانِ الہی کا حال ہے اس کو بھی سُن لیں۔شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر فارسی میں فرماتے ہیں: ٹوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا ادب المسيح جاں فدائے آنکہ او جاں آفرید دل شار آنکه زو شد دل پدید جان اس پر قربانی ہے جس نے اس جان کو پیدا کیا ہے دل اس پر نثار ہے جس نے اس دل کو بنایا۔جال از و پیداست زین می جویدش رَبُّنَا الله رَبُّنَا الله گویدش جان چونکہ اس کی مخلوق ہے اس لیے اسے ڈھونڈتی ہے اور کہتی ہے کہ تو ہی میرا رب ہے تو ہی میرا رب ہے گر وجود جاں نبودے ، زو عیاں کے شدے مہر جمالش نقشِ جاں اگر جان کا وجود اس کی طرف سے ظاہر نہ ہوتا۔تو اس کے حسن کی محبت جان پر کس طرح نقش ہوتی جسم و جاں را کرد پیدا آں لگاں زین دود دل سوئے او چوں عاشقاں جسم اور جان کو اسی یکتا نے پیدا کیا ہے اسی لیے عاشقوں کی طرح دل اس کی طرف دوڑتا ہے ایک اور مقام پر درج ذیل فرمانِ خداوندی کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔فِطْرَتَ اللهِ انَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : 31) اسلام انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور خدا تعالیٰ نے انسان کو اسلام پر پیدا کیا اور اسلام کے لئے پیدا کیا ہے یعنی یہ چاہا ہے کہ اپنے تمام قوی کے ساتھ اس کی پرستش ، اطاعت اور محبت میں لگ جائے اسی وجہ سے اس قادر کریم خدا نے انسان کو تمام قومی اسلام کے مناسب حال عطا کئے ہیں۔انسان کو جو کچھ اندرونی اور بیرونی اعضاء دیئے گئے ہیں یا جو کچھ قو تیں عنایت ہوئی ہیں اصل مقصود ان سے خدا تعالیٰ کی معرفت اور پرستش اور خدا تعالیٰ کی محبت ہے ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) یہی وہ محبت ذاتیہ باری تعالیٰ ہے جسکو آپ حضور کمال قلبی اور ادبی حسن و جمال کے ساتھ پیوند جاں“ کہتے ہیں۔اردوزبان کے اسلوب میں محبت الہی کے مضمون میں ایسا بیان کہاں ملے گا۔ایسے ادبی شاہکار تو قلب و جان کی گہرائیوں سے نکلتے ہیں اور نکلے ہیں۔فرماتے ہیں: مجھے اس پار سے پیوند جاں ہے وہی جنت وہی دارالاماں ہے