ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 337
337 ادب المسيح حضرت اقدس اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔" جو جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میسر تھی اور جس نے آپ کی قوت قدسی سے اثر پایا تھا اس کے لئے قرآن شریف میں آیا ہے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ اس کا سب کیا ہے؟ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کا نتیجہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وجوہ فضیلت میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ آپ نے ایسی اعلیٰ درجہ کی جماعت تیار کی۔میرا دعوی ہے کہ ایسی جماعت آدم سے لیکر آخر تک کسی کو نہیں ملی اور فرماتے ہیں: وہ جماعت ( جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے کہ انہوں نے ایسے اعمالِ صالحہ کیسے کہ خدا تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو گئے ) صرف ترک بدی ہی سے نہ بنی تھی انہوں نے اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بیج سمجھا۔خدا تعالیٰ کی مخلوق کو نفع پہنچانے کے واسطے اپنے آرام و آسائش کو ترک کر دیا تب جا کر ان مدارج اور مراتب پر پہنچے کہ آواز آئی رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (المجادلة:23) ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) مزید فرماتے ہیں: صحابہ کی جو تعمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ خودان کی نسبت فرماتا ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ اور پھر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ فَرمایا۔صحابہ کرام رضوان اللہ میم کی مدح میں دو عظیم الشان فرمودات قرآن بھی ہیں اوّل کا تعلق صحابہ کے اخلاق اور عبادت الہی کے آثار سے ہے۔جیسے فرمایا: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ تَريهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمُ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ حضرت اقدس اس فرمان قرآن کی تفسیر میں فرماتے ہیں: (الفتح : 30) محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت ہیں یعنی