ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 336
المسيح 336 ظہور کی تکمیل ہوئی۔( براہین احمدیہ جلد پنجم صفحہ 66 حاشیہ ) یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔فرماتا ہے: لَقَدْ مَنَّ الله عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ التِهِ وَيُزَكِيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ (ال عمران: 165) لَفِي ضَللٍ مُّبِيْنٍ ترجمہ اللہ نے مومنوں میں سے ایک ایسا رسول بھیج کر جو انہیں اس کے نشان پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے یقیناًا ان پر احسان کیا ہے اور اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔صحابہ نے بھی اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو ایسے احسن طریق سے قبول کیا کہ اللہ نے اُن کا حسن اطاعت دیکھ کر فرمایا: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ (ال عمران: 111) ترجمہ: تم سب سے بہتر جماعت ہو جسے لوگوں کے فائدہ کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔تم نیکی کی ہدایت کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو۔اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔حضرت اقدس اس فرمان کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا تعالیٰ کا قرآن شریف میں اس بارہ میں شہادت دینا تسلی بخش امر نہیں ہے کیا اس نے صحابہ کرام کے حق میں نہیں فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ پھر جس حالت میں خدا تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو امم سابقہ سے جمیع کمالات میں بہتر اور برتر و بزرگ تر ٹھہراتا ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) اور صحابہ کرام کی امت کو ( کیونکہ قرآن کے اول مخاطب وہی تھے ) ان اعمالِ صالحہ اور اطاعت رسول کو کمال تک پہنچانے پر فرماتا ہے۔رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أو ليكَ حِزْبُ اللهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (المجادلة: 23)