ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 338
المسيح 338 کفاران کے سامنے لاجواب اور عاجز ہیں اور ان کی حقانیت کی ہیبت کافروں کے دلوں پر مستولی ہے اور وہ لوگ آپس میں رحم کرتے ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اس آیت کے دوسرے حصے کی تفسیر میں فرماتے ہیں: جو لوگ خدائے تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور جن کو خدائے تعالیٰ نے خاص اپنے لئے چن لیا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے اور اپنے برگزیدہ گروہ میں جگہ دے دی ہے اور جن کے حق میں فرمایا ہے سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ان میں آثار سجود اور عبودیت کے ضرور پائے جانے چاہئیں کیونکہ خدائے تعالے کے وعدوں میں خطا اور تخلف نہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) دوسرے فرمان کا تعلق صحابہ کی جاں نثاری اور کامل فدائیت کے بیان میں ہے۔فرمایا: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمُ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب : 24) اس آیت کی تفسیر میں حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں صحابہ کی تعریف و توصیف میں یہ آیت اول مقام پر ہے۔فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے صحابہ کی تعریف میں کیا خوب فرمایا ہے مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوامَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنتَظِرُ پاره 21 رکوع 19 - مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو سچا کر دکھایا جو انہوں نے خدا تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔سو اُن میں سے بعض اپنی جانیں دے چکے ہیں اور بعض جانیں دینے کو تیار بیٹھے ہیں۔صحابہ کی تعریف میں قرآن شریف سے آیات اکٹھی کی جائیں تو اس سے بڑھ کر کوئی اُسوہ حسنہ نہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) صحابہ کی یہ وفا اور ان کے ایمان کا صدق اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس نے ان میں ایسی صفات