ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 335
335 ادب المسيح مدح صحابہ کرام اسلامی شعری ادب میں یہ بھی ایک ایسا موضوع ہے جس کو مسلمان شعراء نے اپنے ادب میں مطلقاً اختیار نہیں کیا۔قرآن کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ افتخار حضرت اقدس ہی کو ملا ہے۔آپ نے عربی زبان میں (جو کہ صحابہ کرام کی زبان تھی ) صحابہ کی مدح و توصیف کہی ہے۔اوّل حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فاروق کی مدح بیان کی ہے اور پھر عمومی طور پر تمام صحابہ کی مدحت میں اشعار پیش کئے ہیں۔ہم اپنے دستور کے مطابق اقول قرآن کریم کی مدح صحابہ کو پیش کرتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ مدحت و ثناء کے مضمون میں قرآن کریم صرف تین ہستیوں ہی کو یہ اعزاز دیتا ہے کہ ان کی مدح وستائش کی جائے۔ان میں اول مقام تو ہستی باری تعالیٰ کا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اس کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہے جیسے فرمایا: تُسَبِّحُ لَهُ الموتُ السَّيْ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسِحُ بِحمدِم وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُورًا (بنی اسرائیل: 45) ساتوں آسمان اور زمین اور جو اُس میں بسنے والے ہیں اس کی تسبیح کرتے ہیں اور دنیا کی ہر چیز اس کی تعریف کرتی ہوئی اس کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں یقینا وہ حلیم اور غفور ہے۔اور دوسرے مقام پر انبیا علیہم الصلوۃ والسلام ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کو ظاہر کرنے والے اور اس کی منشاء اور تعلیم کو پہنچانے والے ہوتے ہیں۔تیسرے مقام پر وہ ہستیاں ہیں جن کو ہم صحابہ کرام کہتے ہیں جنہوں نے انبیاء سے تعلیم حاصل کر کے تربیت پائی اور اپنے عمل سے باری تعالیٰ کی ہستی اور انبیاء اور ان کی تعلیم کی صداقت کا ثبوت فراہم کیا یہ وہ صداقت ہے جس کو ہم نے حضرت اقدس کے اس فرمان سے حاصل کیا ہے۔فرمان حضرت اقدس : قرآن شریف کے لئے تین تجلیات ہیں۔وہ سید نا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نازل ہوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ سے اس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے۔وَ لِكُلِّ اَمْرٍ وَقَتٌ مَّعْلُومٌ۔اور جیسا کہ آسمان سے نازل ہو ا تھا ویسا ہی آسمان تک اس کا نور پہنچا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے