ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 308
ب المسيح فرماتے ہیں: 308 ز عشاق فرقان و پیغمبریم بدین آمدیم و بدین بگذریم ترجمہ: ہم قرآن اور پیغمبر ( علیہ الصلوۃ والسلام) کے عاشقوں میں سے ہیں۔اسی (عشق) کے ساتھ ہم آئے ہیں اور اسی کے ساتھ جائیں گے۔اس شعر میں یہ اشارہ بھی ہے کہ عشق قرآن آپ کو اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور محبت سے نصیب ہوا ہے۔اور پھر اس عشق کا یہ والہانہ انداز بھی دیکھیں۔دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے اور عربی میں فرماتے ہیں: و جَاءَ بِقُـرانٍ مَّجِيدٍ مُّكَمَّل مُيْرٍ فَنَوَّرَ عَالماً و يُنَوِّرُ ترجمہ: اور وہ مکمل قرآن مجید لے کر آیا جو روشنی بخشنے والا ہے۔سو اس نے ایک دنیا کو منور کر دیا اور آئندہ بھی منور کرتارہے گا۔وہ ایک عزت والی کتاب ہے جو تمام فضیلتوں کی جامع ہے۔معارف کے جام پلاتی ہے۔و إِنَّ سُرُورِئُ فِي إِدَارَةِ كَأْسِهِ فَهَلْ مِن النَّدَامَىٰ حَاضِرٌ مَّنْ يُكَرِرُ ترجمہ: اور میری خوشی اس پیمانے کو گردش میں لانے میں رہی ہے۔کیا میرے ہم مجلسوں میں کوئی ہے جو بار بار پلائے۔یہاں تک تو بات ہوئی قرآن کریم کے نزول اور مقصد اعلیٰ کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاک محمد مصطفی نبیوں کے سردار اور آپ کے نائب مسیح دوراں اور امام آخر الزماں کی۔اب ہم اپنے دستور کے مطابق اوّل یہ پیش کریں گے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے حسن و خوبی اور اس کی صفات کو کس طور سے بیان کیا ہے۔قرآن کریم نے اول تو باری تعالیٰ کی ہستی کو نور کی علامت قرار دیا ہے۔جیسے کہ فرمایا اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ۔۔۔الى الآخر (النور: 36) سچ بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی ذات علوی کے بعد اگر تو اتر اور تکرار سے کسی کے اوصاف بیان کیے ہیں تو ان میں اول قرآن کریم اور انبیاء یھم السلام ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان صفات کو موقع اور محل کے تحت بیان کیا ہے اس لیے ان صفات کی حقیقی عظمت تو تسلسل بیان