ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 307
307 ادب المسيح چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تعلیمات کا محور قرآن کریم کی اطاعت اور اُس کی محبت ہے اور اسی پیغام ربانی کی علمی اور عملی اشاعت آپ کی بعثت کا مقصد تھا۔جیسے کہ باری تعالیٰ فرماتے ہیں: الركتُبُ أحْكِمَتْ أَيْتُه ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (هود: (2) حضرت اقدس ان آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اور فرمایا: یہ کتاب الہی ہے کہ اس کی آیات پکی اور استوار ہیں“ (هود:3) أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ ایک عجیب بات سوال مقدر کے جواب کے طور پر بیان کی گئی ہے۔یعنی اس قدر تفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے؟ الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللہ خدا تعالیٰ کے سوا ہر گز ہرگز کسی کی پرستش نہ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذريات: 57) پھر فرمایا اننى لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَّ بَشِيرٌ - چونکہ یہ تعبد نام کا عظیم الشان کام انسان بڑوں کسی اُسوہ حسنہ اور نمونہ کاملہ کے اور کسی قوت قدسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کر سکتا تھا اس لئے رسول اللہ صلعم فرماتے ہیں کہ میں اُسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر ہو کر آیا ہوں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور پھر خدا تعالیٰ کی ہستی اور اُس کی وحدانیت کے قیام کے لیے تن من کو قربان کرنے کے لیے باری تعالیٰ کا یہ فرمان بھی تو ہے۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: 163 ، 164) ترجمہ: تو (ان سے) کہدے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ( اور ) اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس (امر) کا حکم دیا گیا اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔اسی طور پر آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور نائب ہیں کہ آپ جناب قرآن کے عاشق صادق ہیں