ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 296 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 296

المسيح اور فرماتے ہیں: 296 چوں گمانے کنم اینجا مددِ روح قدس که مرا در دل شاں دیو نظر می آید میں یہاں روح القدس کی مدد کا گمان کیونکر کر سکتا ہوں کہ مجھے تو ان کے دل میں دیو بیٹھا ہوا نظر آتا ہے این مرد هاست در اسلام چو خورشید عیاں کہ بہر عصر مسیحائے دگر می آید اسلام میں یہ امداد سورج کی طرح ظاہر ہے کہ ہر زمانہ کے لئے نیا مسیحا آتا ہے آپ کے وقت میں اسلام کی بیکسی کے غم میں ایک بہت ہی مؤثر اور دردناک نظم میں فرماتے ہیں۔بیکیسے شد دینِ احمد پیچ خویش و یار نیست ہر کسے در کار خود بادین احمد کار نیست دین احمد بیس ہو گیا کوئی اس کا غم خوار ہیں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف ہے احمد کے دین سے کچھ واسطہ نہیں ہر طرف سیل ضلالت صد ہزاراں تن ربود حیف بر چشمے کہ اکنوں نیز ہم ہشیار نیست گمراہی کا سیلاب ہر طرف لاکھوں انسانوں کو بہا کر لے گیا اُس آنکھ پر افسوس جواب بھی ہشیار نہیں ہوئی اے خدواندان نعمت ایں چنیں غفلت چر است بیخود از خوابید یا خود بخت دیں بیدار نیست اے دولت مندو! اس قدر غفلت کیوں ہے۔تم ہی نیند سے بے ہوش ہو یا دین کی قسمت سو گئی ہے اے مسلماناں خدا را یک نظر بر حال دیں آنچہ مے بینم بلاہا حاجتِ اظہار نیست اے مسلمانو! خدا کے لیے دین کی طرف ایک نظر تو دیکھ لو میں جو بلائیں دیکھ رہا ہوں ان کے اظہار کی حاجت نہیں خونِ دیں بینم رواں چوں کشتگانِ کربلا اے عجب این مرد مانرا مهر آن دلدار نیست کشتگان کربلا کی طرح میں دین کا خون بہتا ہوا د یکھتا ہوں مگر تعجب ہے کہ ان لوگوں کو اس محبوب سے کچھ بھی محبت نہیں مزید فرمایا: ہر زماں از بهر دیں درخونِ دل من می تپد محرم این دردما نجو عالم اسرار نیست میرادل دین کی خاطر ہر وقت خون میں تڑپ رہا ہے ہمارے اس درد کا واقف خدا کے سوا اور کوئی نہیں آنچه بر ما می رود از غم که داند جو خدا زہر مے نوشیم لیکن زہرہ گفتار نیست غم جو ہم پر گذر رہا ہے اسے خدا کے سواکون جان سکتا ہے ہم زہر پی رہے ہیں لیکن بولنے کی طاقت نہیں رکھتے اور یہ شعر بھی سُن لیں۔جانم فدا شود بره دین مصطفٰے این است کام دل اگر آید میترم! میری جان ن مصطفی کے دین کی راہ میں فدا ہو یہی میرے دل کا مدعا ہے کاش میتر آجائے