ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 295
295 ادب المسيح زیں کہ دیں از برائے آں باشد که ز باطل بحق کشاں باشد چونکہ دین اس لیے ہوتا ہے کہ باطل سے چھڑا کر حق کی طرف کھینچ کر لے جائے فرماتے ہیں نیچے دین کی یہ خوبی ہے کہ باطل سے حق کی طرف کھینچتا ہے اور اس سے ”لقاء باری تعالیٰ حاصل ہوتی ہے اور یہی وہ خوبی ہے جو بجز اسلام کے دیگر ادیان میں پائی نہیں جاتی۔فرماتے ہیں۔دین ہماں باشد که نورش باقی است و از شراب دید ہر دم ساقی است دین وہی ہے جس کا نور قائم دائم ہے اور ہر وقت شراب معرفت کے جام پلاتا ہے اور فرماتے ہیں۔جان کنی صد کن بكين مصطفى راه نه بینی جز به دین مصطفی مصطفی کی دشمنی میں صد بار تیری نوبت جانکنی تک پہنچ جائے پھر بھی تو مصطفی کے دین کے سوا سیدھا راستہ نہ پائے گا اور فرماتے ہیں: تا نه نور احمد آید چارہ گر کس نمی گیرد از تاریکی بدر جب تک احمد کا نور چارہ گر نہ ہو تب تک کوئی تاریکی سے باہر نہیں آسکتا دینِ اسلام کی اسی خوبی کو کہ اولیاء اور واصلین باری تعالیٰ صرف اس دین میں ہوتے ہیں حضرت بیان بست کرتے ہیں۔الغرض ذات اولیاء کرام مخصوص ملت اسلام خلاصہ کلام یہ ہے کہ اولیاء کرام کی ذات مذہب اسلام کے ساتھ مخصوص ہے خدمت دین کے شوق کا اظہار بھی مشاہدہ کریں۔فرماتے ہیں: یا رب بزاریم نظرے کن بلطف وفضل جز دست رحمت تو دگر کیست یاورم اے میرے رب میری گریہ وزاری کو دیکھ کر لطف و کرم کی ایک نظر کر کہ تیری رحمت کے ہاتھ کے سوا اور کون میر امددگار ہے۔جانم فدا شود بره دین مصطفیٰ این است کام دل اگر آید میترم میرے جان مصطفے کے دین کی راہ میں فدا ہو یہی میرے دل کا مدعا ہے کاش میسر آجائے