ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 297
297 ادب المسيح اور فرماتے ہیں: بروئے یار کہ ہرگز نہ رتبتے خواهم مگر اعانت اسلام مدعا باشد خدا کی قسم میں ہر گز کوئی عزت اور مرتبہ نہیں چاہتا میرا مطلب تو صرف تائید اسلام ہے سیاه باد رخ بخت من اگر به دلم دگر غرض بجز از یار آشنا باشد میری قسمت کا منہ کالا ہو اگر میرے دل میں سوائے خدا کے اور کوئی غرض ہو ره خلاص کجا باشد آن سیه دل را آں که با چنیں دل من درپئے جفا باشد اُس سیاہ دل انسان کو نجات کیونکر مل سکتی ہے جو میرے جیسے دل والے پر ظلم کرنے کے درپے ہو غزل کے انداز میں بہت درددل سے اسلام کی خدمت کی دعوت فرماتے ہیں۔دوستاں خود را ثارِ حضرتِ جاناں کنید در ره آن یار جانی جان و دل قرباں کنید اے دوستو اپنے تئیں محبوب حقیقی پر قربان کردو اور اس جانی دوست کی راہ میں جان و دل نثار کردو آں دل خوش باش را کاندر جہاں جو ید خوشی از پئے دین محمد کلبه احزاں کنید اس آرام پسند دل کو جو اس جہان میں خوشیاں ڈھونڈتا ہے محمد کے دین کی خاطر بیت الحزن بنادو از تعیش ہا بروں آئید اے مردانِ حق خویشتن را از پئے اسلام سرگرداں کنید اے مردانِ خدا عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ دو اور اب اپنے آپ کو اسلام کی خاطر سر گرداں کرو دین محمد کی محبت میں کس قدر پیارا فرمان ہے کہ اس دل کو جو دنیا کی خوشیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔دین محمد کی محبت میں غم کدہ بنا دو۔ایک نہایت درجہ مؤ ثر نظم میں تلقین فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تم نے دینِ اسلام کی خدمت کی تو خدا تعالیٰ کے نزدیک تمہارا صحابہ رسول سے ایک تعلق پیدا ہو جائے گا۔بکوشیداے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا اے جوانو ! کوشش کرو کہ دین میں قوت پیدا ہوا اور ملتِ اسلام کے باغ میں بہار اور رونق آئے اگر یاراں کنوں بر غربت اسلام رحم آید با صحاب نبی نزد خدا نسبت شود پیدا اے دوستو! اگر اب تم اسلام کی غربت پر رحم کرو تو خدا کے ہاں تمہیں آنحضرت کے صحابہ سے مناسبت پیدا ہو جائے پھر خدمت گزارانِ اسلام کو دعا دیتے ہیں۔فرماتے ہیں: