ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 283
283 ادب المسيح أنتَ الَّذِي بِوَدَادِهِ وَبِحُبِّهِ يَدْتُ بِالْإِلْهَامِ وَالْإِلْقَاءِ تو وہ ہے کہ جس کی محبت اور دوستی کے باعث میں الہام اور القاء الہی سے تائید یافتہ ہوا مزید فرماتے ہیں۔إِنَّ الْمَحَبَّةَ لَا تُضَاعُ وَ تُشْتَرَى إِنَّا نُحِبُّكَ يَا ذُكَاءَ سَخَاءِ محبت ضائع نہیں ہوتی بلکہ اس کی قیمت پڑتی ہے۔اے آفتاب سخاوت ! یقینا ہم تجھ سے محبت رکھتے ہیں۔يَا شَمْسَنَا انْظُرُ رَحْمَةً وَتَحَتُنا يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ لِلِارُكَاءِ اے ہمارے آفتاب ! رحمت اور مہربانی کی نگاہ ڈالئے مخلوق آپ کی پناہ کے لئے دوڑی آرہی ہے أنْتَ الَّذِي هُوَ عَيْنُ كُلِّ سَعَادَةٍ تَهْوِى إِلَيْكَ قُلُوبُ أَهْلِ صَفَاءِ تو ہی ہے جو ہر سعادت کا چشمہ ہے۔اہل صفاء کے دل تیری طرف مائل ہورہے ہیں أنتَ الَّذِي هُوَ مَبْدَءُ الأَنْوَارِ نَوَّرُتَ وَجُهَ الْمُدَن وَ الْبَيْدَاءِ تو ہی ہے جو مبدء انوار ہے تو نے شہروں اور بیابان کے چہرے کو منور کر دیا ہے إِنِّي أَرَى فِي وَجُهِكَ الْمُتَهَدِّلِ شَانًا يَّفُوْقَ شُونَ وَجُهِ ذُكَاءِ میں تیرے روشن چہرے میں دیکھ رہا ہوں ایسی شان جو آفتاب کے چہرے کی شانوں سے بھی بڑھ کر ہے شَمْسُ الْهُدَى طَلَعَتْ لَنَا مِنْ مَّكَّة عَيْنُ النَّدَى نَبَعَتْ لَنَا بِحِرَاءِ ہمارے لئے مکہ سے ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا اور ہمارے لئے بخشش کا چشمہ غار حراء سے پھوٹا ضَاهَتْ آيَاةُ الشَّمْس بَعْضَ ضِيَائِهِ فَإِذَا رَتَيْتُ فَهَاجَ مِنْهُ بُكَائِي آفتاب کی روشنی آپ کی روشنی سے کچھ ہی مشابہت رکھتی ہے۔جب میں نے ( آپ کو ) دیکھا تو اس سے میری گریہ وزاری میں جوش آگیا اور آخر پر ایک بہت ہی دلفریب قطعہ مشاہدہ کریں۔پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار کی جناب میں سلام ارسال کیا ہے اس طور پر محبت بھر اسلام کس نے بھیجا۔حَمَامَتُنَا تَطِيرُ بِرِيشِ شَوْقٍ وَفِي مِنْقَارِهَا تُحَفُ السَّلَامِ ہماری کبوتری چونچ میں سلامتی کے تھے لئے ہوئے شوق کے پروں کے ساتھ اڑ رہی ہے إلى وَطَنِ النَّبِيِّ حَبِيبِ رَبِّي وَسَيِّدِ رُسُلِهِ خَيْرِ الْأَنَامِ میرے رب کے محبوب اور نبیوں کے سردار سرور کائنات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وطن کی طرف