ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 8 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 8

ب المسيح جلوہ ہے۔8 اور آپ کے نبی اول و آخر ہونے کا منصب جو کہ خدا تعالیٰ کی صفت قدم کی تجلی ہے۔جیسے فرمایا: كُنتُ نَبِيًّا وَ آدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَ الْجَسَدِ ترجمہ: میں اس وقت بھی نبی تھا جبکہ آدم روح اور جسم کے بین بین تھا۔اس شانِ قدم کو حضرت اقدس نے کس قدرخوبصورتی سے بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں: روح او در گفتن قول بلی اول کسے آدم توحید و پیش از آدمش پیوند یار ترجمہ: قول ”بلی“ کہنے میں آپ کی روح سب سے اول ہے۔آپ آدم تو حید ہیں اور آدم کی تخلیق سے قبل ہی آپ کا خدا تعالیٰ سے پیوند تھا عرض یہ کر رہا تھا کہ موضوعات کے اختلاف سے اسلوب بیان کا تبدیل ہونا اور اس اختلاف کی مطابقت میں ابلاغ کے مراحل طے کرنا ایک اہم دستورخن وری ہے اس بیان میں عرقی کو سنا ہے تو انیس کو بھی سن لیں۔کتنا خوبصورت بیان ہے: بزم کا رنگ جدا، رزم کا میدان ہے جدا یہ چمن اور ہے زخموں کا گلستاں ہے جدا فہم کامل ہو تو ہر نالے کا عنواں ہے جدا مختصر پڑھ کے رُلا دینے کا عنواں ہے جدا اس موضوع کو اختیار کرنے کا اول مقصد تو یہ تھا کہ ابتدا ہی میں بیان کر دیا جائے کہ حضرت اقدس کے اشعار کا دیگر شعراء کے اشعار سے تقابل اُن موضوعات شعری کے تحت ہی ہو گا جو کہ حضرت اقدس نے اختیار فرمائے ہیں اور یہی انصاف بھی ہے۔یہاں تک تو بات اشعار کے تقابلی موازنے کی ہوئی ہے۔مگر اس موضوع کے اختیار کرنے کا دوسرا مقصد جو کہ دراصل اس موضوع کی جان ہے وہ ذیل میں عرض کرتا ہوں۔محاسنِ کلام حضرت اقدس کی نشاندہی میں ہمارے لیے جو چراغ راہ اور کسوٹی ہوگی وہ قرآن کریم کے فرمودات ہوں گے۔کیونکہ حضرت اقدس کے اختیار کردہ شعری موضوعات دراصل قرآن کریم کے موضوعات