ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 9
ادب المسيح ہیں۔اور یہ حقیقت تو سب مانتے ہیں کہ قرآن کریم زبان کا معجزہ ہے اور اپنی فصاحت اور بلاغت کو صرف بیان ہی نہیں کرتا بلکہ اس کو ادب عالیہ قرار دیتا ہے۔جیسے فرمایا: اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ (الزمر: 24) ترجمہ: اللہ نے سب سے بہتر کلام نازل کیا ہے فرمایا: لهذ الِسَانُ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ (النحل : 104) حضرت اقدس فرماتے ہیں: پس عربی مبین کے لفظ سے فصاحت اور بلاغت کے سوا اور کیا معانی ہو سکتے ہیں۔خاص کر جبکہ ایک شخص کہے کہ میں یہ تقریر ایسی زبان میں کرتا ہوں کہ تم اس کی نظیر پیش کرو تو بجز اس کے کیا سمجھا جائے گا کہ وہ کمال بلاغت کا مدعی ہے اور ”مبین“ کا لفظ بھی اس کو چاہتا ہے۔“ (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) قرآن کریم ان فرمودات کے ساتھ اپنی ادبی شان کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اعلانِ عام کرتا ہے کہ اس ادب عالیہ کے مقابل پر اگر کسی ادیب کا یارا ہے تو اس کو اجازت ہے کہ وہ مقابل پر آئے اور جن وانس مل کر بھی کوشش کریں تو وہ اس کلام کا مقابل اور مثل پیش نہیں کر سکتے۔فرمایا: ہی ہو۔وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ (البقرة:24) ترجمہ: اگر تم اس کے بارہ میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا تو تم اس جیسی کوئی سورت لے آؤ۔فرمایا: قُل لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسَ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ وَ بِمِثْلِم (بنی اسرائیل :89) ترجمہ: کہہ دے کہ اگر انسان اور جن اس قرآن کی مثل لانے کے لیے اکٹھے ہو جا ئیں تو بھی اس کی مثل نہ لاسکیں گے۔اور بمثلہ کہہ کر ان فرمودات میں یہ بھی بیان کر دیا کہ تقابل اور موازنہ کے لیے لازم ہے کہ موضوع کلام ایک حضرت اقدس ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس بات کا ثبوت بھی پیدا کر لینا چاہیے کہ جن کمالات ظاہری اور باطنی پر قرآن شریف