ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 7
7 ادب المسيح یا استعارہ - حمد و ثناء باری تعالیٰ کے بیان میں وہی مطلب بیان نہیں کرتا جو کہ غزل کے عنوان کے تحت بیان کر رہا ہوتا ہے۔اسی طرح سے نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آداب بیان ہیں کہ اس کے الفاظ کا انتخاب اور طریق اظہار خیال دیگر اصناف شعر کے اسالیب سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا۔مدحیہ قصائد کا اسلوب اور نعت کا اسلوب ہر اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ نعت کا عنوان کاملۂ صداقت پر مبنی ہوتا ہے اور حفظ مراتب کا تقاضا کرتا ہے۔عرفی نے کس قدر با ادب بات کی ہے۔عرفی مشتاب این رو نعت است نه صحراست آہستہ که ره بر دمِ تیغ است قدم را هشدار که نتواں بیک آهنگ سرودن نعت شہِ کونین و مدیح کے و جم را ترجمہ: عرقی ! تیز قدم نہ چلو۔یہ نعت کا لالہ زار ہے کوئی صحرا نہیں ہے۔یہاں پر چلنا تو تلوار کی دھار پر چلنا ہے اور یہ بھی یا درکھو کہ شاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کا وہ اسلوب نہیں ہو سکتا جو شاہانِ ایران کی مدح سرائی کا ہوتا ہے۔ان آداب نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں بیان کرنے کے بعد عرقی نے ایک ایسی مدح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو فارسی ادب میں زندہ و جاوید رہے گی۔میں اس کو بیان کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ ربط کلام کو قربان کر دینا بھی ایک ربط ہوتا ہے۔کہتا ہے: تقدیر بیک ناقہ نشانید دو محمل لیلی حدوث تو و سلمی قدم را " یعنی رسول اکرم کی شان ایسی ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے ایک ناقہ پر دو محمل باندھ دیے ہوں۔ایک میں آپ انسان ہونے کی حیثیت سے دلیلی کی طرح بیٹھے ہوں اور دوسرے میں خدا تعالیٰ کے بے انتہا قرب کی وجہ سے آپ سلمی کی طرح سے سوار ہوں۔عربی ادب میں لیلی اور سلمی کے نام محبوب کے لیے علامتی اشارے ہیں۔اور عرفی کہتا ہے کہ ہمارے پیارے رسول میں دونوں علامات محبوبی جمع ہوگئی ہیں۔یعنی آپ کے انسان کامل ہونے کا حسن و جمال جو حدوث کا