ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 6 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 6

ب المسيح 6 اور یہ شعر تو مَا يَنْطِقُ عَنِ الهَوى كى تفسیر فرماتے ہیں: ہوگی۔کسیکه هم شده از خود بنور حق پیوست هر آنچه از دهنش بشنوی بجا باشد ترجمہ : جوشخص اپنی خودی کو چھوڑ کر خدا کے نور میں جاملا اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات حق حضرت اقدس کے شعری ادب کی خصوصی عظمت اور منفردشان کے بارے میں حضرت اقدس کا عظیم الشان الہام بھی اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ آپ کا کلام انسانیت کی طرف خدا تعالیٰ کا ایک پیغام ہے۔اور اس کلام کی عظمت میں کسی شاعر کو حصہ نہیں دیا گیا۔در کلام تو چیزی است که شعراء را در آن دخلے نیست۔كَلامٌ أُفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَّبِّ كَرِيمٍ تذکرہ صفحہ 508۔مبطوعہ 2004ء) ترجمہ: تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو دخل نہیں ہے۔تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا ہے۔(حقیقۃ الوحی رخ جلد 22 صفحہ 106 ) آپ حضرت کے کلام کا دیگر شعراء سے تقابلی موازنے کے بارے میں یہ عرض کرنا ہے کہ محاسن کلام حضرت اقدس کی نشاندہی اور آپ کے کلام کے دیگر اساتذہ ادب کے کلام سے تقابلی موازنہ کے سلسلے میں چند ایک وضاحتیں کرنی بہت ضروری ہیں۔اول یہ کہ اس امر سے تو سب اصحاب علم و ادب واقف ہیں کہ جب کبھی ادبی تخلیقات کا باہم دگر تقابل اور موازنے کا وقت آتا ہے تویہ احتیاط لازما برتنی پڑتی ہے کہ متقابل ادب پاروں کا موضوع سخن ایک ہی ہو۔اصناف شعر میں ہر صنف شعر کا ہیئت اور اسلوب کے اعتبار سے مختلف اور متعین طرز بیان ہے۔مشرقی ادب میں تو یہ دستور ایک محکم ادبی قانون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔یہاں تک کہ اسلوب یعنی طرز بیان میں مفرد الفاظ اور تراکیب الفاظ ، استعارات اور تشبیہات اول تو لفظاً مختلف اور مقرر ہوتی ہیں۔اگر ایسانہ بھی ہو تو یہ بات مسلّمہ ہے کہ ہر صنف شعر کے استعارات اور تشبیہات معنا مختلف مطالب رکھتی ہیں۔یہ اختلاف اور امتیاز موضوعات شعری کے مختلف ہونے کی بنا پر ہی ہوتا ہے۔ایک ہی ترکیپ لفظی