ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 240
المسيح 240 انداز میں عارف باللہ انسان کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں: الْعَاقِلُونَ بِعَالَمِينَ يَرَوْنَه وَالْعَارِفُونَ بِهِ رَأَوُا أَشْيَاءِ عقلمند لوگ تو کائنات کے ذریعہ اسے دیکھتے ہیں اور عارفوں نے اس کے ذریعہ اشیاء کو دیکھا ہے خدا تعالی کے شکر کا ایک اور انداز بھی مشاہدہ کریں أَيَا مُحْسِنِي اثْنِي عَلَيْكَ وَ اَشْكُرُ فِدَى لَكَ رُوحِيَ أَنْتَ تُرسِي وَ مَأْزَرُ اے میرے محسن ! میں تیری ثنا اور شکر کرتا ہوں۔میری روح تجھ پر فدا ہو۔تو میری ڈھال اور قوت ہے بِفَضْلِكَ إِنَّا قَدْ غَلَيْنَا عَلَى الْعِدَى بنَصْرِكَ قَدْ كُسِرَ الصَّلِيْبُ الْمُبَطِرُ تیرے فضل سے ہم نے دشمنوں پر غلبہ پایاہے اور تیری نصرت سے ہی اترانے والی صلیب تو ڑ دی گئی ہے فَتَحْتَ لَنَا فَتْحًا مُّبِينًا تَفَضَّلًا بِفَوْجِ إِذَا جَاءُ وُا فَزَهَقَ التَّنَصُّرُ تو نے ہمیں اپنی مہربانی سے فتح مبین عطا کی ایسی فوج سے کہ جب اس کے سپاہی پہنچ تو عیسائیت بھاگ نکلی سَقَانِى مِنَ الْأَسْرَارِ كَاسًا رَوِيَّةً وَإِنْ كُنْتُ مِنْ قَبْلِ الْهُدَى لَا أَعْثَرُ اس نے مجھے اسرار کا سیر کن پیالہ پلایا اگر چہ میں اس راہنمائی سے پہلے (اس سے) آگاہ نہیں تھا غَيُورٌ يُدُ الْمُجْرِمِينَ بِسُخْطِهِ غَفُورٌ تُنَجِّى النَّائِبِينَ وَيَغْفِرُ وہ غیرت مند ہے۔اپنے غضب سے مجرموں کو ہلاک کر دیتا ہے۔وہ بخشتا ہے، تو بہ کرنے والوں کو نجات دیتا ہے اور بخش دیتا ہے وَحِيْدٌ فَرِيدٌ لَّا شَرِيكَ لِذَاتِهِ قَوِيٌّ عَلِيٌّ مُسْتَعَانٌ مُقَدَّرُ وہ یگانہ و یکتا ہے، اپنی ذات میں لاشریک ہے، قوی ( اور ) بلند مرتبہ ہے، اسی سے مدد مانگی جاتی ہے ( اور ) تقدیر بنانے والا ہے لَهُ الْمُلْكُ وَ الْمَلَكُوتُ وَالْمَجْدُ كُلُّهُ وَكُلٌّ لَهُ مَا بَانَ فِيْنَا وَيَظْهَرُ اسی کے لیے حکومت، بادشاہی اور ساری بزرگی ہے اور سب اسی کا ہے جو ہم میں ظاہر ہوا اور ظاہر ہوگا وَدُودْ يُحِبُّ الطَّائِعِينَ تَرَحُما مَلِيكٌ فَيُزْعِجُ ذَا شِقَاقٍ وَّ يَحْصِرُ وہ بہت محبت کرنے والا ہے۔فرمانبرداروں سے از راہ شفقت پیار کرتا ہے۔وہ بادشاہ ہے سو وہ مخالف کو مضطرب کر دیتا ہے اور گھیرے میں لے لیتا ہے