ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 239
239 ادب المسيح اس شعر کو ذکر الہی کے زمرے میں شمار کریں۔ذکر الہی ہو تو ایسا ہو مگر ایسا ذ کر آپ حضرت ہی کا منصب ہے۔یہ بات بھی یادر ہے کہ آپ حضرت نے فرمایا ہے کہ اس قصیدے کے لکھنے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی خارق عادت مدد کی ہے اور یہ بھی وہی بات ہے کہ حقیقی شنایا تو خدا تعالیٰ کرتا ہے یا اس کی مدد سے کی جاتی ہے۔حمد وثنا کے مدارج میں اللہ تعالیٰ کو یاد کر کے اس کا شکر بجالانا بھی ایک حد ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو علم و معرفت آپ کو عطا ہوئی ہے اس کے شکر میں بیان کرتے ہیں۔علمى من الرحمن ذى الألاء بالله حزت الفضل لا بدهاء میر اعلم خدائے رحمان کی طرف سے ہے جو نعمتوں والا ہے۔میں نے خدا کے ذریعہ فضل الہی کو حاصل کیا ہے نہ کہ عقل کے ذریعہ كيف الوصول الى مدارج شكره نشنـی عـلـيـه و ليس حول ثناء ہم اس کے شکر کی منزلوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں کہ ہم اس کی ثنا کرتے ہیں اور ثنا کی طاقت نہیں في هذه الدنيا و بعد فناء الله مولانا و کافل امرنا خدا ہمارا مولیٰ ہے اور ہمارے کام کا متکفل ہے اس دنیا میں بھی اور فنا کے بعد بھی لولا عنــایتــه بـــزمـن تطلبی كادت تعفيني سيول بكاء اگر میری جستجوئے پیہم کے دور میں اس کی عنایت نہ ہوتی تو قریب تھا کہ آہ وزاری کے سیلاب مجھے نابود کر دیتے بشرى لنا انا وجدنا مونسا ربا رحيما كاشف الغماء ہمارے لئے خوشخبری ہے کہ ہم نے مونس و غم خوار پالیا ہے جو رب ورحیم ہے اور غم ومصیبت کا دور کر نیوالا ہے وله التفرد في المحامد كلها وله علاء فوق كل علاء اور اسے تمام صفات میں یگانگت حاصل ہے اور اسے ہر بلندی سے بڑھ کر بلندی حاصل ہے الْعَاقِلُونَ بِعَالَمِينَ يَرَوْنَه وَالْعَارِفُونَ بِهِ رَأَوُا أَشْيَاءِ عقلمند لوگ تو کائنات کے ذریعہ اسے دیکھتے ہیں اور عارفوں نے اس کے ذریعہ اشیاء کو دیکھا ہے هذَا هُوَ الْمَعْبُوْدُ حَقًّا لِلْوَرى فَرُدْ رَّحِيدٌ مَّبْدَءُ الْأَصْوَاءِ یہی مخلوقات کے لئے معبود برحق ہے وہ ایک یگانہ و یکتا ہے اور سب روشنیوں کا مبداً ہے یہی محاسنِ کلام کا حاصل بیان ہے۔عاجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کیا ہے اور کیا ہی خوبصورت