ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 213 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 213

213 ادب المسيح انَّ للُفَاتحة اسماءً أخرى منها سورة الحمد بما افتتح بحمد ربنا الاعلى و منها ا أُمُّ الْقُرْآنِ بِمَا جَمَعَتْ مَطَالِبَهُ كُلَّهَا بِأَحْسَنِ الْبَيَانِ۔وَتَأَبَّطَتْ كصدف درر الفرقان و صارت كَعُشِ لطيرِ الْعِرُفَانِ سورۃ فاتحہ کا دوسرا نام سورۃ الحمد : سورۃ فاتحہ کے اور نام بھی ہیں جن میں سے ایک سورۃ الحمد بھی ہے کیونکہ یہ سورۃ ہمارے رب اعلیٰ کی حمد سے شروع ہوتی ہے۔سورۃ فاتحہ کا تیسرا نام اُم القرآن: سورۃ فاتحہ کا ایک نام ام القرآن بھی ہے کیونکہ وہ تمام قرآنی مطالب پر احسن پیرایہ میں حاوی ہے اور اس نے سیپ کی طرح قرآن کریم کے جواہرات اور موتیوں کو اپنے اندر لیا ہوا ہے اور یہ سورۃ علم و عرفان کے پرندوں کے لیے گھونسلوں کی مانند بن گئی ہے اور ایک مقام پر فرماتے ہیں (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اس کا نام ام الکتاب بھی ہے کیونکہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا اس میں خلاصہ اور عطر موجود ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ومن الممكن ان يكون تسمية هذه السورة بأمِّ الكِتبِ نَظَرًا الى غاية التعليم في هذا الباب۔فَإِنّ سُلوك السالكين لايتم الا بعد ان يستولى على قلوبهم عزة الربوبية وذلة العبودية و لن تجد مرشدا فى هذا الامر كهذه السورة من الحضرة الاحدية الاترى كيف اظهر عزة الله و عظمته بقوله الحمد لله ربّ العلمين الى مالك يوم الدين۔سورۃ فاتحہ کا چوتھا نام : اس سورۃ کا چوتھا نام ام الکتاب رکھنے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ امور روحانیہ کے بارے میں اس میں کامل تعلیم موجود ہے، کیونکہ سالکوں کا سلوک اُس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ ان کے دلوں پر ربوبیت کی عزت اور عبودیت کی ذلت غالب نہ آجائے۔اس امر میں خدائے واحد و یگانہ کی طرف سے نازل شدہ سورت فاتحہ جیسا رہنما اور کہیں نہیں پاؤ گے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ اُس نے کس طرح الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سے لے کر مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ تک کیسے اللہ تعالیٰ کی عظمت کو ظاہر کیا ہے۔دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت)