ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 214 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 214

ب المسيح 214 ایک اور مقام میں فرماتے ہیں۔و من اسماء هذه السورة السبع المثاني۔وسبب التسمية انها مثنى نصفها ثناء العبد للرب ونصفها عطاء الرب للعبد الفاني۔وقيل انها سميت المثاني بها انها مستثناة من سائر الكتب الالهية و لا يوجد مثلها في التوراة ولا في الانجيل و لا في الصحف النبوية۔سورة فاتحہ کا پانچواں نام السبع المثانی: اس سورۃ کے ناموں میں سے ایک نام سبع مثانی ہے اور اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس سورۃ کے دو حصے ہیں ، اس کا ایک حصہ بندہ کی طرف سے خدا کی ثناء اور دوسرا نصف فانی انسان کے لیے خدا تعالیٰ کی عطا اور بخشش پر مشتمل ہے۔بعض علماء کے نزدیک اس کا نام السبع المثانی اس لیے ہے کہ یہ سورۃ تمام کتب الہیہ میں امتیازی شان رکھتی ہے اور اس کی مانند کوئی سورۃ تورات یا انجیل یا دوسرے صحف انبیاء میں نہیں پائی جاتی۔اس مضمون کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) کما لا يخفى على اهل الدهاء و اما تخصيص ذكر الربوبية و الرحمانية والمالكية في الدنيا و الآخرة فلاجل ان هذه الصفات الاربعة امهات لجميع الصفات المؤثرة المفيضة ولاشك انها محركات قوية لقلوب الداعين۔جیسا کہ عقلمندوں پر پوشیدہ نہیں لیکن ان چاروں صفات ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت کا ذکر جن کا تعلق دنیا و آخرت سے ہے خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ چاروں خدا کی تمام صفات کی اصل ہیں اور بلاشبہ کہ یہ چاروں صفات خدا کی باقی تمام موثر اور مفیض صفات کے لیے بطور اصل کے ہیں۔اور بلاشبہ یہ دعا کرنے والوں کے دلوں میں زبر دست تحریک پیدا کرنے والی ہیں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کی صفاتی ثناء کے بارے میں یہ وضاحت تو ہوگئی کہ سورۃ الفاتحہ کی تین آیات الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مُلاتِ يَوْمِ الذين اصولی طور پر باری تعالیٰ کی تمام صفات حسنہ کا اصل اور منبع ہیں۔اس لئے جب ان صفات اربعہ کا بیان حضرت اقدس کی تفسیر و تعبیر کے مطابق ہو گیا تو گویا تمام صفات حسنہ باری تعالیٰ میں جو ثناء ہوئی ہے اس کا بیان ہو گیا ہے۔