ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 3 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 3

3 ادب المسيح دراصل یہی بیان کر رہا ہے جو قبل میں کہا گیا ہے۔یعنی نظم کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید کوئی انسان نظم کے اثر سے ہدایت پالے۔تا ہم آپ کے اس فرمان سے آپ کے اشعار کے ادبی حسن و خوبی پر حرف نہیں آتا۔کیونکہ عظیم المرتبہ ادیب جس صنف ادب کو بھی اظہار خیال کے لیے اختیار کرتا ہے وہ اس میں اپنی ادبی عظمت کو برقرار رکھنے پر قادر ہوتا ہے۔ز فرق تا بقدم ہر کجا که می بینم کرشمہ دامن دل می کشد که جا اینجاست ترجمہ محبوب کے چہرے سے اس کے قدموں تک، میرا دل ہر مقام پر یہ گمان کرتا ہے کہ اصل حسن کا جادو تو یہاں چل رہا ہے۔اس مقام پر اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ الہیات کے مضامین کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ایک عنوان سے اس میں ثبوت ہستی باری تعالی و ملائکہ اور انبیا کا صدق بعثت بیان ہوتا ہے۔دوسرے عنوان سے محبوب حقیقی کی محبت اور عشق کی واردات اور وصال کی کیفیات بیان ہوتی ہیں۔ادبی اسلوب کے اعتبار سے مشرقی ادب میں یہی دستور ہے کہ واردات عشق اور کیفیات ہجر و وصال کے بیان کے لیے شعر کی صنف ہی اختیار کی جاتی ہے۔نثر کا اسلوب واردات قلبی کی گہرائی اور احساس کی شدت کو بیان کرنے کا متحمل نہیں ہوتا۔یوں کہہ لیں کہ وہ احساسات جو انسان کی روح میں جنم لیں اور قلب پر وارد ہوں ایک ایسا اسلوب بیان چاہتے ہیں جس کے معانی میں لامتناہی وسعت ہوتا کہ وہ قلبی واردات کی گہرائیوں اور محبوب کے حسن و جمال کا اظہار کر سکے۔شاید حضرت کا گاہ بہ گاہ شعر کو اختیار کرنے کا یہی راز ہو۔کہیں غالب یہی بات تو نہیں کہہ رہا:۔کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ شعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے اس شعر کے ایک معنی تو معروف عام ہیں۔ہمارے مضمون کے تعلق میں اس شعر میں یہ بیان ہوا ہے کہ قلبی احساسات اور واردات عشق کو شعر ہی میں بیان کیا جا سکتا ہے۔اور پھر جب کہ دل کے راز شعر میں چھپے ہوں تو جب شعر بیان ہو گیا تو دل کا راز افشاء ہو گیا۔ادبی انتقاد میں اسی عمل کا نام ابلاغ کامل ہے۔بہر صورت درست بات یہی ہے کہ حضرت اقدس کی ادبی شان اور عظمت کا عظیم تر حصہ آپ کی نثر میں ہی رونما ہوا ہے۔الہیات اور محبت الہی کے دقیق مضامین کو بے انتہا خوبصورت اور سادہ الفاظ میں بیان کرنا۔اور