ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 4
المسيح 4 اس کے ساتھ تاثیر کے عنصر کو اس طور پر قائم رکھنا کہ قاری کو صرف دماغی اور عقلی عرفان ہی حاصل نہ ہو بلکہ ہر فقرے کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے قلب کی کیفیت بدلتی جائے اور کلام ختم ہونے پر وہ صرف صاحب عرفان ہی نہ ہو بلکہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا بھی ہو۔یہ ایک ایسی قدرت کلام ہے جو خدا تعالیٰ نے کسی بھی مہذب زبان کے ادیب کو اس شان اور اس قدر فراخ دلی سے نہیں دی۔سچ تو یہ ہے کہ اردو زبان جو اپنی حیات کے ابتدائی مراحل سے گزر رہی تھی اور بلوغت کے مقام تک نہیں پہنچی تھی۔اس کے اظہار کی طاقت کو بالغ مقام تک پہنچانے میں حضرت اقدس کی نثر نے اردو زبان پر ایک احسان عظیم کیا ہے۔کوئی وقت ایسا آئے گا کہ بڑے بڑے ادیب اور دانشور اس احسان کا تجزیاتی جائزہ لے کر اس حقیقت کو قبول کریں گے۔ہم کہنا تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہماری کتاب کے عنوان ” ادب المسیح “ سے مراد صرف آپ کا شعری کلام ہے۔مگر اچھا ہوا کہ بات دور نکل گئی اور ہمیں آپ کی نثری شان کو بھی چند الفاظ میں بیان کرنے کی سعادت نصیب ہو گئی۔ویسے بھی یہ حدیث دلبراں ہے افسانہ از افسانه می خیزد تو ہونا ہی تھا۔اور ابھی بہت ہوگا۔حضرت اقدس کے فارسی کلام کی نسبت سے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ آپ کا ایک اور مجموعہ فارسی اشعار بھی ہے جو کلام فرخ کے نام سے معروف ہے۔( آپ بعثت سے قبل مختر خ تخلص فرماتے تھے )۔یہ وہ کلام ہے جو آپ نے منصب ماموریت پر فائز ہونے سے قبل تخلیق فرمایا ہے۔اس وقت ہم اُس کلام کے محاسن کو پیش نہیں کر رہے کیونکہ اس کوشش میں ہمارے پیش نظر صرف آپ کا وہ کلام ہے جو ” در مشین کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے۔تاہم کلام فرخ کے ادبی تجزیہ کسی اور وقت اور کسی اور صاحب قلم کے سپر د کرتے ہوئے ہم چند ایک باتیں اس کلام کی خصوصی نوعیت کے بارے میں کہنا چاہتے ہیں۔اوّل خصوصیت یہ ہے کہ چند ایک موضوعات شعر جن کو اختیار کرنے سے قبل منصب امامت پر فائز ہونا ضروری تھا۔کلام فرخ کے باقی تمام شعری موضوعات وہی ہیں جو کہ در مشین فارسی میں اختیار کیے گئے ہیں۔یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جس پیغام خداوندی کو پہنچانے کے لیے خدا تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے۔آپ حضرت کے قلبی اور ذہنی رجحانات بعثت سے قبل بھی وہی تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کلام فرخ میں حمد باری تعالیٰ ، نعت رسول، محبت الہی اور اسلام کی صداقت کے سوا اور کوئی موضوع شعر اختیار نہیں کیا گیا۔یہ آپ کے کیفیات قلبی کے صدق کا ایک محکم ثبوت ہے۔