ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 2
ب المسيح 2 حضرت اقدس علیہ السلام کا صرف شعری ادب ہے۔یعنی آپ کا اردو، فارسی اور عربی زبان کا شعری کلام۔نظم اور نثر کے محاسن کی نشاندہی کے لیے ہیئت کے اعتبار سے اور اسلوب کے اعتبار سے مختلف اقدار ادب اور پیمانے بنائے گئے ہیں۔نثر میں وزن اور صوتی آہنگ کا نہ ہونا اور اظہار مطلب میں زبان کی علامتی نوعیت سے زیادہ فائدہ نہ اٹھانا نثر کی خوبصورتی شمار ہوتی ہے۔اس کے برعکس شعر میں ان عناصر کا فقدان شعر کے حسن و خوبی کو کھو دیتا ہے۔یہی اختلاف ان دونوں اصناف ادب کو باہم دگر ممتاز کرتا ہے۔تاہم محاسن کلام کی دیگر تمام اقدار کا ان دونوں اصناف میں جلوہ گر ہونا یکساں طور پر لازم ہوتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو ایسی نگارش ”ادب“ نہیں کہلاتی۔موضوع یا مواد کے اعتبار سے خیال کی عظمت اور نفاست اور ہیئت کے اعتبار سے الفاظ کی حسین ترتیب اور انتخاب جس کے امتزاج سے تا ثیر اور ابلاغ کامل کی قابلیت پیدا ہوتی ہے دونوں اصناف ادب کی روح رواں ہوتے ہیں۔جیسے شعران عناصر کی غیر موجودگی میں شعر نہیں کہلاتا ویسے ہی نثر بھی ان اقدار ادبی کی غیر موجودگی میں ایک بے جان الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔حضرت اقدس نے اپنی نثر او شعر میں ن او بی اقدار کا کمال سن وخوبی التزام کیا ہے۔اس لیے ادب لمسیح کی عظمت وشان کے بیان میں آپ کے نثری کلام کو شامل نہ کرنا ایک قسم کی ادھوری سی بات ہے۔اور ادھوری بات تو ادھوری ہی ہوتی ہے۔آپ حضرت کی ادبی شان کے بیان میں ایسا کرنا تو اس اعتبار سے بھی درست نہیں کہ حقیقت میں آپ کے بیان فرمودہ ادب کی خوبی اور عظمت آپ کے نثری کلام ہی کی مرہونِ منت ہے۔ابلاغ رسالت کے لیے آپ نے نثر کو اختیار فرمایا ہے۔نظم کو ایک ثانوی نوع اظہار کے طور پر قبول کیا ہے۔یعنی اس طرح سے کہ جو مضمون نثر میں بیان ہورہا ہے اس کے ابلاغ کامل کے لیے اشعار میں بھی اس مضمون کو بیان کر دیا گیا ہے۔آپ نے بعثت کے بعد کے وقت میں شاید کہیں ایک آدھ بار کے سوا ارادۂ مشق سخن نہیں کی۔یہی وجہ ہے کہ شعراء کے دستور کے مطابق آپ کا کوئی مجموعہ اشعار یاد یوان نہیں ہے۔آپ کی تینوں زبانوں کے در ہائے مشین آپ کی نثری تصنیفات سے ماخوذ ہیں۔آپ کا یہ فرمان : کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے