ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 1 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 1

ادب المسيح چند گذارشات سب سے اول اس کتاب کے عنوان ”ادب الہی کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔دراصل خاکسار نے یہ عنوان اپنے پیارے ماموں پروفیسر ابوافتح عبدالقادر سے اخذ کیا ہے۔آپ عربی فارسی اور اردو میں اور اگر انگریزی زبان کو بھی شامل کر لیں تو ان چاروں زبانوں پر عالمانہ طور پر قدرت رکھتے تھے۔دینی علوم اور تاریخ اسلام کے عالم اور اپنے وقت کے جید علماء سے علمی اور ادبی تعلق تھا۔مولانا ابوالکلام آزاداور مولا ناشبلی نعمانی سے دوستانہ رسم ورا تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام نظم و نثر کے عاشق اور ایک اعتبار سے حافظ بھی تھے اور آپ کو صحابی ہونے کا شرف بھی نصیب ہوا تھا۔آپ کی خواہش تھی کہ حضرت اقدس کے ادب عالیہ پر علم اور تحقیقی کام کریں۔اس مقصد کے حصول کے لیے آپ نے بہت محنت اور ریاض بھی کیا تھا۔حضرت اقدس کے ان گنت ادبی نظم و نثر کے شاہکا را قتباسات آپ نے زبانی یاد کر ر کھے تھے اور اس خدمت کی بجا آوری کے لیے آپ نے اپنی نوکری کا وقت ختم ہونے سے دو، تین سال قبل ہی نوکری سے فراغت حاصل کر لی تھی۔اس شوق تحقیق و تصنیف کو آپ نے ادب اسیح “ کا نام دے رکھا تھا۔افسوس ہے کہ ملک کے بٹوارے کی بدامنی اور مشکلات نے آپ کو اتنی مہلت نہ دی کہ دلجمعی سے یہ خدمت بجالا سکتے۔وگرنہ سچی بات تو یہی ہے کہ اس خدمت کا حقیقی منصب آپ ہی کا تھا۔قیاس میں نہیں آتا کہ ان تینوں زبانوں کی نظم ونثر پر ادیبانہ قدرت اور تبحر علمی اور حضرت اقدس کے ادب عالیہ کا وسیع مطالعہ آئندہ کیسے اور کب یکجا ہوگا۔اور حضرت اقدس کی ادبی شان کو بیان کرنے کی خدمت کما حقہ کیونکر سرانجام ہوگی۔میں آپ کی محبت بھری یاد میں آپ کے عنوان کو اختیار کر رہا ہوں اور آپ کے شوق کو پورا کرنے کی بساط بھر کوشش کر رہا ہوں۔میرے ادبی شوق کا حضرت اقدس کے ادب کی طرف رخ پھیر نے میں آپ کی شفقت اور صحبت کا بہت دخل ہے۔ربّ اغفر وارحم و انت خير الراحمين دوسری گذارش اس کتاب کے موضوع کے تعلق میں یہ ہے کہ اصطلاحا ”ادب“ کے لفظ کی تعریف میں نظم اور نثر دونوں کو شمار کیا جاتا ہے۔گو ان دونوں کی جداگانہ طور پر ایک متعین ادبی ہیئت اور ساخت ہے اور جدا گانہ اقدار حسن بھی ہیں۔مگر کتاب کے عنوان کی نسبت سے ضرورت پیش آئی کہ وضاحت کر دی جائے کہ اس عنوان سے مراد