ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 165 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 165

165 ادب المسيح صدق کی نشست گاہ کا ذکر ہو رہا ہے۔تو مجھے یاد آیا کہ خاکسار نے ایک مقالے میں انبیاء کے صدق کے تعلق میں دوا شعار پیش کئے تھے ان کی عظمت کی یاد میں اُس اقتباس کو دوبارہ پیش کرتا ہوں اوّل شعر تو اُس دہن مبارک سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ” صَدَّق بہ “ کے القاب سے نوازا ہے اور اپنی ہستی اور اپنے نبیوں کے سردار اور اپنی کتاب کے صدق کو ثابت کرنے کے لیے مبعوث کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس شعر میں حریم قدس کے پردوں کی سرسراہٹ ہے۔صداقت عظمی کا جلال اور جمال ہے اور ایسی شان محبوبی ہے کہ اپنے حسن و جمال کی آپ ہی دلیل اور آپ ہی مثال ہے۔فرماتے ہیں: من در حریم قدس چراغ صداقتم دستش محافظ است زہر باد صرصرم ترجمہ: میں وہ چراغ صداقت ہوں جو کہ حریم قدس میں روشن کیا گیا ہے میری ضیاء پاشی کی بادصرصر سے حفاظت خود خدا تعالی کا ہاتھ کر رہا ہے۔ایک شعر حضرت خلیفہ اسی الثانی کا ہے۔صادق اور مصدق کے عنوان میں ایسا بیان نہ کبھی پہلے ہوا ہے اور نہ کبھی آئندہ ہوگا عظیم الشان شعر ہے۔ہر لفظی اور معنوی خوبی کا حامل اور میری ناقص رائے میں آپ کے اشعار کا حاصل کلام۔فرماتے ہیں: یا صدق محمد عربی ہے یا احمد ہندی کی ہے وفا باقی تو پرانے قصے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دو حریم قدس کے چشم و چراغ ہونے کے منصب عالی کی نسبت سے خاکسار نے بھی ایک شعر آپ حضرت کی نذر کیا ہے۔اسی شمع حریم قدس سے روشن چراغ اپنا اُسی سے میرے قلب و جاں کی ہر تنویر کا رشتہ صدق کے لفظ کا حقیقی شعور ہمیں پیارے مسیح دوراں کی جناب ہی سے ملا ہے۔جیسا کہ فرماتے ہیں: ”سب سے بڑا صدق لا الہ الا اللہ ہے اور پھر دوسرا صدق محمد رسول اللہ ہے ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 342۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )