ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 164
ب المسيح صدق 164 دوسرا لفظ جوحضور سیدی نے اپنے کلام میں علامت اور استعارے کے طور پر اختیار کیا ہے وہ صدق ہے۔ایسا ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ روحانی نظام میں: اول مقام پر اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ہے۔اور دوسرے مقام پر اس نور کی تجلی ہے جو صدق کامل ہے اور خدا کے کلام اور انبیاء کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللهِ وَكَذَبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ (الزمر:33) ترجمہ: اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اپنی طرف خدا کی جناب سے آنے والے صدق کو جھٹلائے۔اللہ تعالیٰ نے اول اپنی ذات کو صدق کامل کہا اور پھر اپنے کلام کو اور اس کے بعد آنے والی آیت میں قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر تمام مرسلین باری تعالیٰ کو اسی بنا پر ہی صدیق کا لقب دیا کہ وہ باری تعالیٰ کے صدق کامل کی تصدیق کرنے والے ہیں جیسا کہ فرمایا: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللهِ قِيلًا (النساء: 123) ترجمہ: اپنے بیان میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ اور کون سچا ہو سکتا ہے؟ فرمایا: وَالَّذِي جَاءَ بِالصِدْقِ وَصَدَّقَ بِة أوليكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (الزمر : 34) ترجمہ: اور وہ جو خدا کی طرف سے سچی تعلیم لے کر آئے یعنی آنحضرت اور جو اس تعلیم کی تصدیق کرے ایسے لوگ ہی متقی ہوتے ہیں۔مرسلین باری تعالیٰ حقیقت میں فرمودات باری تعالیٰ کے مصدقین ہی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرسلین خدا کو اوّل متقی قرار دے کر اور اُن کی قرارگاہ کو ” مقعد صدق“ کہا ہے۔فرمایا: إنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنْتٍ وَنَهَرٍ فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكَ مُقْتَدِرٍ (القمر: 55-56) حضرت اقدس ” فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكَ مُقْتَدِرٍ “ کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔” صدق کی نشست گاہ میں بااقتدار بادشاہ کے پاس ( دیکھو حضرت اقدس زیر آیت)