ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 166
المسيح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: 166 صدق مجسم قرآن شریف ہے اور پیکر صدق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ذات ہے اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے مامور ومرسل حق اور صدق ہوتے ہیں ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 243۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اس حقیقت کو بھی ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ آپ حضرت کو صدق‘ کا منصب اللہ کی طرف سے خاص عنایت کے طور پر عطا کیا گیا تھا۔آپ حضرت کا الہام ہے: يَا أَحْمَدُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَنَفَخْتُ فِيكَ مِنْ لَّدُنّى رُوحَ الصِّدْقِ۔ترجمہ: اے احمد! تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ۔میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 55 مطبوعہ 2004ء) یہ وہ صدق کی روح ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے احسانِ بے پایاں سے مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے متبعین کو دی جو کہ قرآنی فرمان کے مطابق وآخَرِينَ مِنْهُمُ کی جماعت ہے اور یہی وہ جماعت ہے جن کے ایمان بر رسالت نبی اکرم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت محبت سے دیکھا ہے اور ان کو اپنا بھائی کہا ہے۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا اے لوگو ایمان کے لحاظ سے سب سے عجیب مخلوق کون سی ہے؟ صحابہ نے کہا نبی۔تو فرمایا وہ کیسے ایمان نہ لائیں جبکہ اُن پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے۔اس پر صحابہ نے کہا آپ کے صحابہ۔تو فرمایا میرے صحابہ کیسے ایمان نہ لائیں۔ایمان کے لحاظ سے عجیب قوم وہ ہے جو میرے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے اور میری تصدیق کریں گے۔حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا۔یہ میرے بھائی ہیں۔(المعجم الكبير للطبراني جلد 12 صفحه 87 حدیث نمبر 12560) ان معنوں میں حضرت اقدس نے کس قدر خوبصورتی سے فرمایا ہے: بیا مدم کہ رہے صدق را درخشانم بدلستاں برم آن را که پارسا باشد ترجمہ: میں اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں تا کہ صدق کی راہ کو روشن کروں اور جو بھی نیک اطوار ہے اس کو اُس کے محبوب تک پہنچا دوں