ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 158 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 158

المسيح 158 بِهِ نِلْنَا تُرَاكَ الْكَامِلِينَا بهِ سِرْنَا إِلَى أَقْصَى الْمَعَانِي ہم نے اس کے ذریعہ سے کاملوں کی وراثت پائی۔ہم نے اس وسیلہ سے حقائق کے اخیر تک سیر کیا۔اور اردو میں فرماتے ہیں: نور فرقاں ہے جوسب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا ہے قصورا پنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور اور فرماتے ہیں: ایسا چکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دُنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعمی نکلا اے عزیزو! سنو کہ بے قرآں حق کو ملتا نہیں کبھی انساں جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں اُن پہ اُس یار کی نظر ہی نہیں اور پھر اس نور کا حقیقی منصب مشاہدہ کریں فرماتے ہیں: ہے شکر رب عزوجل خارج از بیان جس کے کلام سے ہمیں اس کا ملا نشاں وہ روشنی جو پاتے ہیں ہم اس کتاب میں ہوگی نہیں کبھی وہ ہزار آفتاب میں پر یہ کلام نور خدا کو دکھاتا ہے اس کی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے بے اس کے معرفت کا چمن نا تمام ہے