ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 157
157 ادب المسيح اس شعر کے مضمون میں بہت ہی خوبصورت کلام ہے فرماتے ہیں: تانه نور احمد آید چاره گر! کس نمی گیرد از تاریکی بدر! ترجمہ: جب تک احمد کا نور چارہ گر نہ ہو تب تک کوئی تاریکی کے لیے چاند نہیں نکل سکتا۔از طفیل اُوست نور ہر نبی نام ہر مُرسل بنام او جلی ترجمہ: ہر نبی کا نور آپ کے طفیل ہے ہر رسول کا نام اس کے نام سے روشن عربی میں فرماتے ہیں: نُورٌ مِّنَ اللَّهِ الَّذِي أَحْيَ الْعُلُوْمَ تَجَدُّدَا الْمُصْطَفَى وَ الْمُجْتَبَىٰ وَ الْمُقْتَدَى وَ الْمُجْتَدَا ہے۔ترجمہ: وہ اللہ کا نور ہے جس نے علوم کو نئے سرے سے زندہ کیا۔وہ برگزیدہ اور چنیدہ ہے اس کی پیروی کی جاتی ہے اور اس سے فیض طلب کیا جاتا ہے۔لفظ انور کے علامتی اشاروں میں تیسرا اہم اشارہ قرآن کریم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَّبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمُ نُورًا مُّبِينًا (النساء: 175) حضرت اقدس اس آیت کے معانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اے لوگو قر آن ایک بُرہان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو ملی ہے اور کھلا کھلا نور ہے۔جو تمہاری طرف اتارا گیا ہے۔“ قرآن کے ہی اتباع میں فرماتے ہیں: وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقُرْآنُ فَيْضًا (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) خَفِيرٌ جَالِبٌ نَحْوَ الْجَنَانِ ترجمہ: اور تو کیا جانتا ہے کہ قرآن فیض کے اعتبار سے کیا ہے؟ وہ ایک راہبر ہے جو بہشت کی طرف کھینچتا ہے۔لَهُ نُوْرَانِ نُورٌ مِنْ عُلُومِ وَ نُورٌ مِّنْ بَيَانٍ كَا الْجَمَانِ ترجمہ: اس میں دونور ہیں ایک علوم کا نور اور دوسرا فصاحت اور بلاغت کا نور جو چاندی کی طرح چمکتا ہے۔اور نُورًا مُّبِينًا کے مطابق فرماتے ہیں: وَكُلُّ النُّورِ فِي الْقُرْآنِ لَكِنْ يَمِيلُ الْهَالِكُوُن إِلَى الدُّخَانِ ترجمہ : تمام اور ہر ایک قسم کے نور قرآن میں ہیں مگر مرنے والے دھوئیں کی طرف دوڑتے ہیں۔