ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 159 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 159

159 ادب المسيح فارسی زبان میں دیکھیں کس قدرشان سے اور کیسے والہانہ انداز میں فرماتے ہیں: از نور پاک قرآن صبح صفا دمیده بر غنچہ ہائے دلہا بادِ صبا وزیده ترجمہ: قرآن کے پاک نور سے روشن صبح نمودار ہوئی اور دلوں کے غنچوں پر بادصبا چلنے لگی۔ایں روشنی و لمعاں شمس الضحیٰ ندارد وایس دلبری و خوبی کس در قمر نه دیده ترجمہ ایسی روشنی اور چمک تو دو پہر کے سورج میں بھی نہیں اور ایسی کشش اور حسن تو کسی چاندی میں بھی نہیں۔اے کانِ دلربائی دانم که از کجائی تو نور آں خدائی کیں خلق آفریده ترجمہ: اے کان حسن میں جانتا ہوں کہ تو کہاں سے آئی ہے تو تو اس خدا کا نور ہے جس نے یہ مخلوقات پیدا کی ہیں۔میلم نماند باکس محبوب من توئی بس زیرا کہ زاں فغاں رس نورت بما رسیده ترجمہ : مجھے کسی سے تعلق نہ رہا اب تو ہی میرا محبوب ہے کیونکہ اس فریاد سننے والے خدا کی طرف سے تیرا نور ہم کو پہنچا ہے۔اور فرماتے ہیں: از وحی خدا صبح صداقت بدمیده چشمے کہ ندید آں صحفِ پاک چه دیده ترجمہ : خدا کی وحی سے صبح صداقت روشن ہوگئی جس آنکھ نے یہ صحف پاک نہیں دیکھے اُس نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔آں دیدہ کہ ٹورے نگرفت است ز فرقاں حقا کہ ہمہ عمر ز کوری نہ رہیدہ جس آنکھ نے قرآن سے نو را خذ نہیں کیا خدا کی قسم کہ وہ ساری عمر اندھے پن سے رہائی نہیں پائے گا اور فارسی میں قرآن کریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامت ”نور“ کے چند اور معانی بھی مشاہدہ کر لیں۔آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کے نور سے مراد اول صداقت کا چراغ ہے دوم رہبر و رہنما ہے۔نعمت اور رحمت خداوندی ہے اور خدا کی پہچان کا ذریعہ ہے۔فرماتے ہیں: نور فرقاں نه تافت است چناں کہ بماندے نہاں ز دیدہ وراں ترجمہ: قرآن کا نور اس طور سے نہیں چمکتا کہ دیکھنے والوں کی نظروں سے پوشیدہ رہے۔آں چراغ هداست دنیا را رہبر و رہنماست دنیا را ترجمہ: وہ تمام دنیا کے لیے ہدایت کا چراغ ہے وہ جہان بھر کے لیے رہبر و راہنما ہے۔