ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 128 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 128

المسيح 128 جیسا کہ دوسری آیت اس کی طرف اشارہ کرتی ہے یعنی عَرَبِي مُبِينٌ سوخدا نے مبین کے لفظ کو عربی کے لیے ایک خاص صفت ٹھہرایا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ لفظ بیان کا عربی کی صفات خاصہ میں سے ہے۔عربی زبان کی قدامت کے بارے میں ہمارے لیے تو یہی کافی ہے ( تاہم آپ حضرت نے اس فرمان کے اثبات میں جو آسمانی اور لسانی شواہد پیش کیے ہیں ان کے علم کے لیے آپ کی معرکہ آراء کتاب من الرحمن کا مطالعہ از بس ضروری ہے) ایک الہامی زبان ہونے کے ناطے سے یہ امر تو بد یہی ہے کہ ایسی زبان اور اس کا اسلوب اپنی فصاحت و بلاغت میں بھی دیگر زبانوں سے ارفع و اعلیٰ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات میں اپنے کلام کو حسن الحدیث اور احسن القصص اور عربی زبان کو عَرَبِيٌّ مُبِین “ کی صفات کا حامل قرار دیا ہے چنانچہ 66 عربی زبان کا اُئم الالسنہ ہونا اور فصاحت و بلاغت میں سب زبانوں سے اعلیٰ ہونا بھی حضرت اقدس کی زبان میں سُن لیں۔آپ فرماتے ہیں۔واقتضت حكم ارادات الالهية ان ينزل كتابه الكامل الخاتم في اللهجة التي هي اصل الالسنة۔و امّ كلّ لغة من لغات البرية۔و هي عربي مبين۔وقد سمعت ان الله جعل لفظ البيان۔صفة للعربية في القرآن۔ووصف العربية بعربي مبين۔فهذه اشارة الى فصاحة هذا اللسان۔و علو مقامها عند الرحمن و اما الالسنة الاخرى فما وصفها بهذا الشان۔من الرحمن روحانی خزائن 9 صفحہ 203) ترجمہ: اور الہی ارادوں کی حکمتوں نے تقاضا کیا کہ اس کی کامل کتاب جو خاتم الکتب ہے اس زبان میں نازل ہو جو جڑ زبانوں کی ہے اور تمام مخلوقات کی زبانوں کی ماں ہے اور وہ عربی ہے اور تو سُن چکا ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بلاغت فصاحت کو عربی کی صفت ٹھہرایا ہے اور عربی کو عربی مبین کے لفظ سے موسوم کیا ہے۔پس یہ بیان اس زبان کی فصاحت کی طرف اشارہ ہے اور نیز اس کے مرتبہ عالیہ کی طرف ایما ہے مگر اللہ تعالیٰ نے دوسری زبانوں کو اس وصف سے موصوف نہیں فرمایا۔عربی زبان کی قدامت اور اس کی فصاحت و بلاغت کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے