ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 129 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 129

129 ادب المسيح بھی اس زبان کی تمام خصوصیات کو نہایت درجہ مختصر اور جامع فرمان میں بیان کر دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔احِبُّوا العَربَ لِثَلاثِ فَإِنِّي عَرَبِيٌّ وَ الْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ وَ لِسَانُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ ( رواه حاکم) یعنی عرب قوم سے تین خصوصیات کی بنا پر محبت کرنی چاہیے اوّل یہ کہ میں عربی ہوں۔دوم یہ کہ قرآن عربی میں نازل ہوا اور رسوم یہ کہ اہل جنت کی زبان عربی ہے۔مؤرخین کی تحقیق کے مطابق عرب سامی اقوام میں سے ایک قوم ہے اور سام حضرت نوح کا بیٹا تھا۔اس لیے یہ اقوام ایک ہی جڑ سے پیدا ہوئی ہیں۔اس جڑ کے مقام پیدائش کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔بعض عراق اور حبشہ کہتے ہیں اور بعض اس مقام کو جزیرۂ عرب کہتے ہیں۔ان تین مقامات میں ہمارے نزدیک ( جو کہ حضرت محمد مصطفے نبیوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ) جزیرہ عرب ہی عرب قوم اور اس کی زبان کی جائے پیدائش ہے کیونکہ اسی سرز مین اور اسی زبان میں اللہ تعالیٰ نے ایسی کامل اور آخری کتاب نازل فرمائی ہے اور عربی زبان کو مختلف اور متنوع ادوار میں تربیت دے کر اس مقام تک پہنچایا کہ ہستی باری تعالیٰ کا عرفان اور اس کا حسن و جمال بیان کرنے کے قابل ہو جائے۔عربی زبان کا یہ نقطہ ارتقاء حضرت اسماعیل علیہ السلام کے مکہ میں سکونت پذیر ہونے کے بعد ہوا ہے جیسا کہ حضرت جابر نے حدیث نبوی میں بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت نے آیت قرآنًا عَرَبِيًّا “ کی تلاوت فرما کر ارشاد کیا کہ یہ خالص زبان عربی جس میں قرآن نازل ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے الہاما حضرت اسماعیل کو تعلیم دی تھا۔(مستدرک حاکم) یہی وجہ ہے کہ عرب اقوام میں قبیلہ قریش کی زبان مسلمہ طور پر مستند اور فصیح عربی زبان سمجھی جاتی ہے عربی زبان کی بلوغت کے اس سفر میں دو ہی سنگ میل ہیں۔اول۔ادب جاہلیہ دوم۔قرآن کریم اور رسول اکرم کی فصاحت لسانی کہ آپ افصح العرب تھے۔ہم نے ادب جاہلیہ کو صرف تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے اول قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کریم کے ادبی دعوت مقابلہ کے اعتبار سے بھی اس کا اول ہونا اس طور سے لازم ہے کہ اسی شعری ادب کے مقابل پر اس نے فرمایا ہے "وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ “ (البقرة:24) اگر فِي رَيْبٍ “ کے معانی ” قرآن کی ادبی عظمت سے انکار کیا جائے تو اس آیت کے معانی ایسے ہونگے اُن ( ادباء عرب ) سے کہہ دے کہ اگر تم قرآن کریم کو ادب عالیہ نہیں سمجھتے تو ان موضوعات میں ) مقابل پر کوئی کلام پیش کرو۔