ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 127
127 ادب المسيح عربی زبان میں ابلاغ حضرت اقدس کی تینوں زبانوں میں منفردشان کے بیان میں ہم یہ حقیقت پیش کر رہے ہیں کہ ان تینوں زبانوں میں آپ حضرت کا اسلوب بیان ان کی کلاسیکی ادب کی پاسداری میں اور ان کے اقدارفن کے مطابق ہی نہیں بلکہ ان ہی کے اسالیب بیان میں ان سے بھی ارفع اور اعلیٰ ہے۔اردو اور فارسی اساتذہ کے کلام سے آپ کے کلام کا ایک مختصر تقابل اور موازنہ پیش کیا جا چکا ہے۔اس مقام پر ہم عربی کلاسیکی ادب پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے اور یہ جائزہ لیں گے کہ آپ حضرت کا عربی کلام کس حد تک عربی زبان کے مسلمہ شعری اسلوب اور طرز بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔دستور کے مطابق اول عربی زبان کی تخلیق اور اس کی عظمت و شان کے بارے میں چند اشارے ضروری ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ تمام زبانوں کی ابتدا اور تدریجی ترقی کے بارے میں تاریخی شواہد دستیاب ہیں کہ کیسے ابتدا ہوئی اور کن زبانوں سے اختلاط و تعاون کے بعد اور کس دور زمانہ میں ایک مستقل اور منفرد زبان بن گئی۔صرف عربی ہی ایک ایسی زبان ہے جس کے بارے میں ہمارے پاس زمینی تو نہیں مگر قوی روحانی شواہد ہیں کہ یہ زبان الہامی زبان ہے بلکہ انسان کو جب اول مقام پر نطق و بیان سے نوازا گیا تھا تو وہ یہی زبان تھی اور دیگر تمام زبانیں اسی زبان کی مشتقات ہیں یا بدلی ہوئی صورتیں ہیں۔ہمارے لیے تو اس کے ثبوت کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے آقا اور امام آخر الزمان نے قرآن کریم کی آیت وَ كَذلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيَّا لِتُنْذِرَ أم القرى۔۔۔الى الأخر (الشوری: 8 ) کی تفسیر میں اس صداقت کو واضح کر دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: و اما تفصيل آيات تؤيد اية ام القرى و تبيّن ان العربية ام الالسنة و الهام الله الاعلى فمنها آية من الله المنان في سورة الرحمان اعنى قوله خلق الانسان علمه البيان۔فالمراد من البيان اللغة العربية۔كما تشير اليه الآية الثانية اعنى قوله تعالى عربي مبين۔فجعل لفظ المبين وصفًا خاصًا للعربية و اشار الى انه من صفاته الذاتية۔ولا يشترك فيه احد من الرحمن۔۔۔خ۔جلد 9 صفحہ 188 ) ترجمہ: اور ان آیتوں کی تفصیل جو آیت ائم القری کی مؤید ہیں اور جو ظاہر کرتی ہیں جو عربی ائم الالسنہ اور الہام الہی ہے سو یہ تفصیل ذیل ہے۔چنانچہ ان میں سے ایک وہ آیت ہے جو سورۃ رحمان میں ہے یعنی خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَمَهُ الْبَيَانَ۔جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اُس کو بولنا سکھایا۔سو بیان سے مراد جس کے معنے بولنا ہے عربی زبان ہے