ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 124
المسيح 124 اگر از روضه جان و دل من پرده بردارند به بینی اندران آن دلبر پاکیزه طلعت را اگر میرے جان و دل کے چمن سے پردہ اٹھایا جائے تو تو اُس میں اُس پاکیزہ طلعت معشوق کا چہرہ دیکھ لے گا۔فروغ نور عشق او ز بام و قصر ما روشن مگر ببیند کسے آں را که میدارد بصیرت را اُس کے نور عشق کی تجلی سے ہمارے بام و قصر روشن ہیں لیکن اُسے وہی دیکھتا ہے جو بصیرت رکھتا ہو دعوی مسیحیت مشاہدہ کریں محبت الہی اور اس کے عشق میں وارفتگی کو اپنے مسیح ہونے کے ثبوت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔بہت ہی دلفریب انداز تغزل ہے۔غزل کی تعریف کو یکسر تبدیل کرنے والا اور اس کو محبوب حقیقی کے قدموں میں ڈالنے والا کلام ہے۔فرماتے ہیں: مرانہ زہد و عبادت نہ خدمت و کاری است ہمیں مرا است که جانم رہین دلداری است میرے پاس نہ زہد ہے نہ عبادت نہ خدمت نہ اور کوئی کام صرف ایک بات ہے کہ میری جان اس دلدار کے پاس رہن پڑی ہوئی ہے چه لذتی است برویش کہ جاں فدالیش باد چه راحتے است بکولیش اگر چه خوں بارےاست اُس کے چہرہ میں ایسی لذت ہے کہ اس پر جان قربان ہے اس کی گلی میں عجیب لطف ہے اگر چہ وہاں خون کی بارش ہوتی ہے مسیح وقت مرا کرد آنکه دید این حال بہ ہیں دلائل دعویٰ اگر چه بیکاری است خدا نے جب میرا یہ حال دیکھا تو مجھے مسیح الزمان بنا دیا اب تو میرے دعوے کے دلائل دیکھ گو (تیرے نزدیک یہ بیکار ہے دوائے عشق نخوا ہم کہ آں ہلاکت ماست شفائ ما بہ ہمیں رنج و درد و آزاری است میں عشق کا علاج نہیں چاہتا کیونکہ اس میں ہماری ہلاکت ہے ہماری شفا تو اسی رنج و درد اور بیماری میں ہے اسی انداز میں فرماتے ہیں۔اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی اے محبت تو نے عجیب آثار دکھائے ہیں دوست کی محبت میں زخم اور مرہم کو ایک ہی کر دیا ہے تا نه دیوانه شدم ہوش نیامد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احسان کردی میں بھی جب تک دیوانہ نہیں ہو گیا میرے ہوش ٹھکانے نہ ہوئے۔اے جنونِ عشق تجھ پر قربان ! تو نے کتنا احسان کیا۔