ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 123 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 123

123 ادب المسيح ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق میرد کسے کہ نیست مرامش مرام شاں ترجمہ: جس کا دل عشق سے زندہ ہو گیا ہو۔وہ کبھی نہیں مرتا۔مرتا وہی ہے جس کا مقصد عاشقوں کی طرح سے نہ ہو۔غزل کے اسلوب میں حافظ شیرازی کا منصب اور حضرت اقدس کا اس کی پاسداری میں غزل کہنا کافی تفصیل سے بیان ہو چکا ہے۔ایک بات کہنی رہ گئی ہے یہ کہ باری تعالیٰ جل شانہ اور حضرت اقدس کی جناب میں شمس الدین حافظ کی یہ مقبولیت یقیناً اس کے لئے عین سعادت اور جائے افتخار ہوگی۔ہم نے دستور بنایا ہے کہ اسلوب شعری کو ہم ابلاغ رسالت کے عنوان کے تحت پیش کریں گے اور اساتذہ شعر سے آپ کے شعری منصب کا تقابل کریں گے آپ حضرت کے اردو اور فارسی اشعار کا اساتذہ شاعری کے ہم پلہ بلکہ ان سے بہتر ہونے کا ثبوت تو گذشتہ میں وضاحت سے بیان ہو چکا ہے اور ابلاغ رسالت کی امثال بھی پیش کی جاچکی ہیں۔مگر غزل کی صنف میں ایک مشکل درپیش ہے کہ غزل کی صنف کا موضوع سخن واردات عشق و محبت کا بیان ہے۔اس لئے اس صنف شعر میں منطقی استدلال اور تبشیر وانذار کے مضامین بیان نہیں ہو سکتے۔یہی وجہ ہے کہ آپ حضرت نے غزل کے اسلوب کی پاسداری میں اس صنف میں عمومی طور پر ابلاغ رسالت کے موضوع کو اختیار نہیں کیا اور یہی آپ کا ادبی منصب تھا۔مگر غزل کے اسلوب میں لقاء باری تعالیٰ اور محبت محبوب ازل ضرور بیان ہو سکتی ہے۔اور عاشق الہی ہونا ہی منصب رسالت کا جزو اعظم ہے۔اس لئے محبت الہی کے بیان میں ابلاغ رسالت فرمایا ہے۔اس اعتبار سے ہم چند ایک نہایت درجہ خوبصورت امثال پیش کرتے ہیں۔بہت خوبصورت انداز میں فرماتے ہیں۔دعوی رسالت بده از چشم خود آبی درختان محبت را مگر روزے دہندت میوہ ہائے پُر حلاوت را محبت کے درختوں کو اپنی آنکھوں کے پانی سے سیراب کر۔تا کہ ایک دن وہ تجھے شیر میں پھل دیں من از یار آمدم تا خلق را این ماه بنمایم گرامروزم نمی بینی به بینی روز حسرت را میں اُس یار کی طرف سے آیا ہوں کہ مخلوق کو یہ چاند دکھاؤں اگر آج تو مجھے نہیں دیکھے گا تو ایک روز حسرت کا دن دیکھے گا۔